۲؍اپریل کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے چینانی، ناشری ٹنل کا افتتاح کرنے کے بعد ادھم پورہ میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کئی باتوں کے علاوہ یہ بھی کہا ہے کہ کشمیر کے نوجوانوں کودہشت گردی اور سیاحت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ یہ ٹنل کشمیر کی ترقی میں ایک چھلانگ کے مانند ثابت ہوگی، نیز انہوں نے کشمیر میں اٹل بہاری واجپائی کے نعرہ ’’انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت‘‘ کی آبیاری جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا ۔ بھارتی وزیر اعظم نر یندر مودی نے کشمیری نوجوانوں سے مخاطب ہوکر یہ بھی کہہ دیا کہ کچھ لوگ پتھروں کو کاٹ کر آپ کے لیے ٹنل بنا رہے ہیں اور کچھ لوگ سنگ باری کرتے ہیں۔ دلی میں بی جے پی کے لیڈر جتندر سنگھ نے اس ٹنل کو گیم چینجر قرار دیا ہے۔اس موقع پر ٹنل کا افتتاح کرتے ہوئے ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اور گورنراین این وہراہ بھارتی وزیر اعظم کے ساتھ ساتھ رہے ۔ محبوبہ مفتی نے نریندر مودی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اِنہوں نے مشکل وقت میں اُن کا ساتھ دیا ہے یعنی گزشتہ سال کے عوامی احتجاج کے دوران پی ڈی پی سرکار کو گرنے سے بچایا ہے، حالانکہ سچائی تو یہ ہے کہ نریندر مودی سرکار کو محبوبہ مفتی سے زیادہ ریاستی کولیشن سرکار میں شامل اپنی جماعت بی جے پی کی فکر لاحق تھی۔ پہلی دفعہ بی جے پی ریاست میں مسنداقتدار میں براہ راست شامل تھی اور اُنہیں زیادہ سے زیادہ وقت تک سرکار میں شامل رکھنا دلی کے لیے اس لیے بھی ضروری تھا تاکہ اُن کے ذریعے سے ریاست میں ایسے تمام اقدامات کو ممکن بنا یا جاسکے جو فرقہ پرست طاقتوں کا ہمیشہ سے ایجنڈا رہا ہے۔
کشمیر کے حوالے سے دلی میں قائم تمام سرکاروں کا رویہ ایک جیسا ہوتا ہے۔ کانگریس ہو یا پھر بی جے پی یا کوئی اور کشمیر کے حوالے سے ہر زمانے میں اور ہر مرحلے پر پالیسیاں ایجنسیوںکی ایماء پر ترتیب دی گئی ہیں۔ ہندوستان کی سیاسی جماعتوں نے ہر دور میں کشمیر کو ماسٹر کارڈ کے طور پر استعمال کیا ہے۔ یہاں کے لوگوں کی آواز کو ملک دشمن قرار دے کر عام ہندوستانیوں کو ہر زمانے میں ورغلایا گیا ، یہی وجہ ہے کہ آج بھارت میں آبادی کی اکثریت کشمیریوں کو اپنے دشمنوں میں شمار کرتی ہے اور اُن کے ساتھ سختی سے نپٹنے کی حمایتی ہے۔ تعصب و تنگ نظری کی حد تو یہ ہے کہ گزشتہ دنوں کی بارشوں کے بعد فیس بک پر ہندوستانیوں کی ایک بڑی تعداد سیلاب کی دعا کررہی تھی تاکہ بقول اُن کے اُنہیں کشمیریوں کے ٹیشن سے ہمیشہ ہمیش کے لیے نجات مل جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ظلم و جبر اور قتل و غارت گری اور نوجوانوں کو بینائی سے محروم بنانے کی کارروائیوں پر ہندوستان میں کوئی ردعمل سامنے نہیں آتا ہے بلکہ عوامی سطح پر کشمیر میں بھارتی وردی پوشوں کی انسان دشمن کارروائیوں کو جائز ٹھہرایا جاتا ہے۔رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی اس غیر انسانی حرکت میں کارپوریٹ میڈیا نے سیاسی جماعتوں کا بھرپور ساتھ دیا ۔ایک ایسے وقت میں جب بھارت میں فرقہ پرست طاقتوں کی طوطی بول رہی ہے ہندوستانی وزیر اعظم ٹنل کا افتتاح کرنے کے لیے ریاست جموں وکشمیر کا دورہ کرتے ہیں۔ اُن کی تقریر میں جو باتیں سامنے آئی ہیں اُن میں سب سے اہم بات یہ تھیں کہ ’’کشمیری نوجوانوں کو دہشت گردی اور سیاحت‘‘ دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے۔اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے، یہ محض بھارتی وزیر اعظم کی تقریر کا ایک جملہ نہیں ہے بلکہ اس میں کشمیری نوجوانوں کے لیے واضح پیغام تھا کہ وہ حق خود ارادیت کی مانگ کے جس راستے پر چل پڑے ہیں اُس سے وہ باز آجائیں۔ یہ دھمکی آمیز لہجہ ہے،حالانکہ لفظ’’دہشت گردی‘‘ متنازعہ خطوں میں ہمیشہ سے وضاحت طلب رہا ہے اور اس لفظ کی فریقین اپنے اپنے انداز سے تشریح کرتے رہتے ہیں۔یہاں لوگ وردی پوشوں کی کارروائیوں سے دہشت زدہ ہوجاتے ہیں، یہاں گرفتاریاں عوام میں دہشت پھیلاتی ہیں، یہاں پیلٹ اور شلنگ کے نتیجے میں خارج ہونے والے زہریلی گیس سے انسانیت خوف زدہ ہے، یہاں نونہالوں کے دن دھاڑے قتل عام سے پوری آبادی دم بخود بھی ہے اور دہشت زدہ بھی ، اس اعتبار سے دیکھا جائے تو یہاں دہشت گردی کا ارتکاب ریاست کی جانب سے ہوتا ہے۔ یہاں طاقت اور تشدد کی زبان حکومتی ادارے اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس اپنے حقوق کی مانگ کرنا ہر قوم کا جمہوری حق ہوتا ہے، پرامن جلسے جلوسوں کا اہتمام کرنا مہذب دنیا کا سکھایا ہوا طریقہ ہے۔موازنہ کریں تو بھارتی فوجیوں اور حکومت کے برعکس کشمیری نوجوان وہ راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں جس کا نقشہ اقوام عالم کے چارٹر میں موجود ہے، اُن کا رویہ دہشت گردانہ نہیں ہے بلکہ انسانی حدود و قیود میں اپنے جائز حقوق کے لیے جدوجہد کرنے کا یہی ایک طریقہ کشمیری نوجوان نسل اور قوم کے پاس ہے۔کشمیری نوجوانوں کو نام نہاد دہشت گردی سے جوڑنا کذب بیانی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے اور اُنہیں دھمکیاں دینا کم از کم اسٹیٹ کے سب سے بڑے ذمہ دار کو زیب نہیں دیتا ہے۔سیاحت کے ساتھ واقعی میں یہاں کا ایک بہت بڑا طبقہ وابستہ ہے لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ کشمیر کی پوری اقتصادیات ہی سیاحت پر منحصر ہے۔ اس طرح کی بیان بازیوں سے سیاحت کے شعبے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ پہلے سے ہی سیاحت کے شعبے میں امرناتھ یاترا کو سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے ۔ ایسی باتیں دنیا کو گمراہ کرنے کے لیے کہی جاتی ہیں اور المیہ یہ ہے کہ دنیا بھی اپنے مفادات کی خاطر اندھی، بہری اور گونگی بنی ہوئی ہے۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی’’انسانیت ، جمہوریت اور کشمیریت‘‘ کی آبیاری کرنے کی بات لوگوں کو خوش فہمیوں میں مبتلا کرنے کے لیے کہی گئی ہے۔ یہ نعرہ اٹل بہاری واجپائی کے دور میں بھی محض ایک سراب ہی تھا اور آج بھی لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے اس کا ورد کیا جارہا ہے۔ سابق بھارتی وزیر اعظم کا مزاج شاعرانہ تھا اور اُنہوں نے سرینگر آکر یہ چند خوبصورت الفاظ کیا استعمال کئے کہ یہاں کے مزاحمتی جماعتوں کے لیڈران بھی اُن کی تعریفوں کے رو میں بہہ گئے۔ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ ہندوستانی اسٹیٹ کا ایک نظام ہوتاہے، جس میں افراد اور سیاست دانوں کی باتیں کام نہیں کرتی ہیں بلکہ ایجنسیوں کی رپورٹیں اور مشوروں سے ہی بات بنتی ہے۔ کسی کو یقین نہ آئے تو اُسے آگرہ میں پرویز مشرف اور اٹل بہاری واجپائی کے درمیان ہونے والے معاہدے کو یاد کرنا ہوگا جسے اٹل بہاری واجپائی کے قبول کرنے کے باوجود ایجنسیوں نے بار بار تبدیل کردیا ،اُس کے بعد بالآخر پرویز مشرف کو درمیان میں ہی اپنے ملک کی راہ لینی پڑی۔ٹائم پاس کرنے کے لیے اور لوگوں کو الجھانے کے لیے ایسی باتیں سوچ سمجھ کر کی جاتی ہیں۔ ان باتوں کو تخلیق کرنے کے لیے سیاست دانوں کے پاس ماہرین کی ایک ٹیم ہوتی ہے، جو ایسی باتیں تخلیق کرکے سیاست دانوں کے منہ میں ڈال دیتے ہیں۔ اس طرح کی باتیں افسانوں اور کہانیوں میں ہی اچھی لگتی ہیں حقیقی دنیا میں کام ایجنسیاں کرتی ہیں۔ ہمارے یہاں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ہندوستانی سیاست دانوں کی باتوں پر یقین کرلیتے ہیں اور افسوسناک بات یہ ہے کہ پھر اِن باتوں کو لے کر ایسے حکمرانوں کی تعریفیں بھی کرتے ہیں۔ہم کیسے بھارتی حکمرانوں کی ’’انسانیت‘‘ کے نعرہ کا یقین کریں گے جب کہ ہماری آنکھیں وردی پوشوں کے ہاتھوں ہورہی انسانیت کی تذلیل کا نظارہ روز کرتی ہیں۔یہاں بیچ سڑکوںپر وحشیوں اور درندوں کی طرح کیا پرامن شہریوں کو مارا اور پیٹا نہیں جاتا ہے؟کیا انسانیت یہی ہے کہ معصوم لوگوں کو گولیوں سے بھون ڈالا جائے؟ نہتے اور کمسن بچوں کو پیلٹ چھروں سے اندھا بنایا جائے؟ کس انسانیت کا یہ اصول ہے کہ کسی قوم کی ماؤں او ربہنوں کے سروں سے ردائیں اُتاری جائیں۔کشمیری عملاً حیوانیت دیکھ رہے ہیں، کشمیریوں کا واسطہ دہشت اور وحشت سے پڑا ہوا ہے۔ ہمیں انسانیت کا پاٹ پڑا کر گمراہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔
جمہوریت محض نام ہے، اس کا عملی روپ کیسا ہوتا ہے یہ گزشتہ سات دہائیوں میں کم از کم کشمیریوں نے نہیں دیکھا ہے۔یہ سرکاریں کٹھ پتلیاں ہوتی ہیں، یہاں اقتدارکی کرسیوں پر براجمان لوگ عوام سے زیادہ دلی کی خوشنودی چاہتے ہیں کیونکہ اُنہیں معلوم ہے کہ عوامی ووٹ تو محض دکھاوا ہوتا ہے، اصل حکمران تو دلی سے ہی تعینات ہوتے ہیں۔ جمہوریت کا حشر ہم اُس وقت دیکھ لیتے ہیں جب عوام کے پرامن جلسے اور جلوسوں پر وردی پوش جنگلی جانوروں کی طرح ٹوٹ پڑتے ہیں۔اس لیے جمہوریت کی بات نہ ہی کی جائے تو زیادہ بہتر رہتا۔ ’’کشمیریت‘‘ کی جو اصطلاح آج کل سرینگر سے دلی تک ہندنواز اوراُن کے مقامی وکیل استعمال کرتے ہیں، اس کی تخلیق کار آر ایس ایس نظریے کا حامل سابق گورنر ریٹایرڈ جنرل ایس کے سنہا تھا۔ وہ کشمیریت کی آڑ میں یہاں ایک نئے دین کی متعارف کرانا چاہتے تھے۔ وہ اسلام کی نئی تشریح کرکے مسلمانوں کو مختلف خانوں میں تقسیم کرنے کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔ اُنہوں نے ہی کشمیریت کی راگ الاپ کراس کی جڑوں کو مضبوط کرنے کے لیے کئی اقدامات بھی کیے ۔ ہمیں کشمیریت سے انکار نہیں ہے، البتہ جس’’کشمیریت ‘‘ کی بات ایس کے سنہا نے کی ہے، جس کشمیریت کا نعرہ اٹل بہاری واجپائی نے دیا ہے اور اب جس کشمیریت کی آبیاری کرنے کی نریندر مودی نے ٹھان لی ہے وہ سراسر بے معنی ہے۔یہ لوگ کشمیریت کے نام پر ہمیں اپنی اصل شناخت اور تشخص سے محروم کرنا چاہتے ہیں، یہ ہماری اسلامی ہیت اجتماعیہ کو مٹاکر ہمیں اپنی من چاہی شناخت کے سانچے میں ڈال دینے کے متمنی ہیں۔جب قومیں کسی راہ پر چل پڑتی ہیں، جب حق اور باطل کے حدود کا تعین ہوچکا ہوا ہوتا ہے، جب سچائی اور جھوٹ کے درمیان لکیر کھینچی جاچکی ہوئی ہوتی ہے تو پھر الفاظ کے گورکھ دھندوں سے ذہن تبدیل نہیں کیے جاسکتے ہیں، تو پھر دھمکیاں بھی کام نہیں کرتی ہیں۔ اِن حالات میں تمہارے مقامی آلہ کار بھلے ہی تمہیں اندھیرے میں رکھ لیں، لیکن صداقت یہی ہے کہ جس قوم کو سات دہائیوں میں زیر نہیں کیا جاسکتا اُسے اپنی مبنی برحق جدوجہد سے باز رکھنا نادانی ہی تصور کی جائے گی۔ ٹنل کے کھل جانے سے ہمارا اتنا بھلا نہیں ہوگا ، نہ ہی ٹنل بناکر تم لوگوں نے ہم پر کوئی احسان کیا ہے۔ ہمارے ٹیکس سے بننے والی اس ٹنل کا سب سے زیادہ فائدہ تمہاری فوج اور تمہارے تسلط کو ہوگا۔شاید اسی بات کی جانب بی جے پی لیڈر جتندر سنگھ نے بھی اشارہ کیا ہے کہ یہ گیم چینجر ثابت ہوگی یعنی کم وقت میں جب بھی زیادہ سے زیادہ فوج کشمیر پہنچانے کی ضرورت پڑے گی یہ ٹنل اُس وقت کارگر ثابت ہوسکتی ہے۔
بھارتی وزیر اعظم کی جانب سے کیے جانے والا یہ دورہ کسی بھی اعتبار سے کامیاب قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔ ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے میاں مٹھو بن جانے سے دورے کو کامیاب نہیں کہا جاسکتا ہے۔ بی جے پی اور نریندر مودی کی تعریفیں کرنا اُن کی مجبوری ہے۔ اس طرح وہ زیادہ سے زیادہ وقت تک برسراقتدار رہ سکتی ہیں۔ البتہ کشمیر کے حالات اور کشمیری عوام کے جوش او ر جذبے کو دیکھ کر بھارتی وزیر اعظم بھی اکڑے اکڑے نظر آرہے تھے۔ اُن کی باڈی لینگویج اور تقریر بھی اس بات کی غمازی کرتی تھیں کہ اُن کے دل ، دماغ اور الفاظ میں تال میل نہیں تھا۔پروپیگنڈا کرکے بھارتی میڈیا اور ایجنسیاںبھلے ہی ہماری جدوجہد کو ناکام قرار دیں حقیقت حال یہ ہے کہ دلی کشمیر میں صرف فوجی طاقت کے بل بوتے پر ٹکی ہوئی ہے ، باقی ذہنی اور اخلاقی طور پر وہ کشمیریوں کے جذبے کے سامنے اپنے ہتھیار ڈال چکے ہیں۔
رابطـہ9797761908