پونچھ// انسانی حقوق کے معروف کارکن اور عوامی ایکشن کمیٹی کے ضلع صدر کمل جیت سنگھ نے عوامِ مینڈھر اور تمام مساجد کے ائمہ کرام کو اپنی تحصیل میں شراب بندی کے اقدام پر مبارک باد پیش کی ہے۔ یہاں جاری اپنے ایک پریس بیان میں موصوف نے اُن کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ آج کے پُر آشوب دور میں ائمہ و عوام مینڈھر کا یہ قدم ایک جُرات مندانہ عمل تصور کیا جائے گا۔ اُنہوں نے ریاست کے دیگر اضلاع کے باشندگان کو تلقین کرتے ہوئے کہا کہ مینڈھر کے عوام کے اس عمل کی بھر پور پیروی کرکے سارے بُرائیوں کی جڑ شراب کی روک تھام کرنی چاہئے۔ سنگھ نے ضلع انتظامیہ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اُنہیں مینڈھر کی طرح ضلع کی دیگر تحصیلوں میں بھی شراب پر پابندی عائد کرنی چاہئے نیز مینڈھر میں چوری چھپے شراب بھیجنے والوں پر کڑی نگاہ رکھنی چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ دُنیا کے دیگر مذاہب کی طرح مذہبِ اسلام میں بھی شراب منع کی گئی ہے اور اس کا پینا حرام قرار دیا گیا ہے۔ موصوف نے کہا کہ ریاست بہار میں دس فیصد مُسلم آبادی ہونے کے وہاں کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار نے شراب پر پابندی عائد کی ہے جب کہ ریاست جموں و کشمیر میں اسّی فی صد مُسلم آبادی ہونے کے باوجود یہاں کے کسی وزیرِ اعلیٰ نے اس خباثت پر کبھی پابندی عائد کرنے بارے سوچا تک نہیں۔ کمل جیت نے کہا کہ یہ کتنے شرم کی بات ہے کہ ریاستی حکمرانوں کی حکومت چلانے کے لئے شراب کی کمائی کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکن نے ریاست کی خواتین سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ شراب بندی کی مہم میں وہ بھی بڑھ چڑھ کر حِصہ لیں کیوں کہ بالاخر شراب نوشی کی وجہ سے اُجڑنے والے گھرانوں میں عورتیں سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔