حال ہی میں اپنے ایک انٹرویو میں شام کے صدر بشار الاسد سے پوچھا گیا تھا ’’آپ کی افواج کے فضائی حملوں سے مرنے والوں میں بڑی تعداد بچوں کی ہے ۔آپ کو رات کو نیند کیسے آتی ہے ۔‘‘بشار نے بھیڑیے جیسی مسکراہٹ سے جواب دیا ’’بہت گہری نیند آتی ہے۔‘‘4؍اپریل ،اُس رات بھی بشار کو یقیناً بہت گہری نیند آئی ہوگی جب شام کے شمال مغربی صوبے ادلب کے شہر شیخون میں اس کے طیاروں نے کیمیائی مواد پھینکا ،جس سے متاثرہونے والوں کی سانسیں رُکنے لگیں ۔ستائیس پھول سے بچے فوراً ہی ہاتھوں میں دم توڑ گئے ،جو ہسپتالوں تک پہنچ سکے وہ کس اذیت سے سانس لے رہے تھے ،اسے دیکھنے کے لئے آنکھوں میں کتنے آنسو اور گلے میں کتنی سسکیاں چاہیں کون شمار کرسکتا ہے ۔اس حملے میں سو افراد شہید اور پانچ سو سے زائد زخمی ہوئے۔اپنے ہی شہریوں کا قتل عام بجائے خود جنگی جرم ہے لیکن اگر یہ بذریعہ کیمیائی ہتھیار ہو تو اس کی سنگینی میںہزار گنااضافہ ہوجاتا ہے ۔بشار الاسد نے یہ جرم پہلی مرتبہ نہیں کیا ۔اس سے پہلے بشار کی افواج صوبہ حما میں کیمیائی حملہ کرچکی ہیں۔اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2014ء اور 2015ء میں بھی بشار اپنے عوام کے خلاف آٹھ مرتبہ کلورین کو بطور ہتھیار استعمال کرچکا ہے ۔شیخون میں جو کیمیائی مواد پھینکا گیا اس کا نام ’نروا یجنٹ‘ہے ،جو سب سے پہلے متاثرین کے نظام تنفس کو ناکارہ بنا دیتا ہے ۔
بشار الاسد کی افواج کے اس وحشیانہ حملے کی خبر عام ہوتے ہی نشریاتی ادارے چیخ اٹھے اور دنیا بھر سے شدید رد عمل آنا شروع ہوگیا ۔مارچ 2011 ء سے جاری شام میں خونریزی کے تناظر میں یہ سب کچھ معمول کے مطابق تھا لیکن اس صورت حال نے ڈرامائی رُخ اس وقت اختیار کیا جب بحیرہ روم میں تعینات امریکی بحری بیڑے سے شام کے ایک ائر بیس ’’الشیعرات ‘‘کو 59ٹوم ہاک کروز میزائیل سے نشانہ بنایا گیا۔اس حملے میں ائر بیس کو شدید نقصان پہنچا ۔شامی فضائیہ کے 99طیارے تباہ سات اہلکار ہلاک اور نو زخمی ہوئے ۔کہا جاتا ہے کہ امریکی میزائلوں نے جس ائر بیس کو نشانہ بنایا، وہاں کیمیائی ہتھیاروں کے بڑے بڑے گودام تھے۔ادلب کے علاقے خان شیخون پر حملہ بھی اسی ائر بیس سے کیا گیا تھا ۔امریکی میزایل حملے کو امریکا نے بشار کے وحشیانہ مظالم کا انتقام قرار دیا ہے ۔صدر ٹرمپ نے کہا ’’کیمیائی حملہ انسانیت کی توہین ہے۔‘‘ترکی سمیت متعدد مسلم ممالک نے اس امریکی حملے کی مذمت کی۔شامی عوام کی نمائندگی کرنے والے اتحاد نے امریکی حملے کا خیر مقدم کیا ۔سوشل میڈیا پر شامی عوام نے اس حملے پر خوشی کا اظہار کیا۔تہرن نے اس حملے پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا’’بھیانک نتائج اس امریکی حملے کا انتظار کررہے ہیں۔‘‘روس نے اسے خود مختار ملک پر حملہ اور واشنگٹن کے ساتھ اس معاہدے کے خاتمے کا اعلان کیا جس کا مقصد شام کی فضائی تصادم کو روکنا تھا ۔بعض مبصرین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ اب روس اور امریکہ کے درمیان سرد اور خفیہ جنگ نے ایک فیصلہ کن رُخ اختیار کرلیا ہے۔
یہ سب باتیں سیاست کا ظاہر ہیں، در حقیقت بشار الاسد ،امریکہ اورروس ایک ہی پیج پر ہیں ۔ امریکا نے حملے سے پہلے روس کو اعتماد میں لیا تھا ۔بشار الاسد اپنے والد حافظ الاسد کی وفات کے بعد 24؍جون 2000ء کو شام کے صدر بنے۔اسد خاندان کی حکومت کی بنیاد امریکا نے کئی دہائیوں پہلے ڈالی تھی ،تب سے امریکا اور یہودیوں کے مفاد میں وہ اس حکومت کی حفاظت کرتا آرہا ہے۔گولان کا پہاڑی علاقہ اسرائیل کے ہاتھوں کھو دینے کے باوجود شامی حکومت نے اس کے دوبارہ حصول کے لئے کوئی کوشش نہیں کی اور آج تک یہ محاذ ٹھنڈا رکھا ہوا ہے ۔حافظ الاسد کی وفات کے بعد تعزیت کے موقع پر جب سابق امریکی وزیر خارجہ میڈلین البائٹ نے بشار سے ملاقات کی تھی تو شامی ٹی وی نے دکھا یا تھا کہ البرائٹ اور بشار باتیں کرتے ہوئے محل کے ایک کمرے سے نکل رہے ہیں۔البرائٹ نے اس ملاقات کو مشرقی وسطیٰ کے لئے حوصلہ افزاء پیش رفت قرار دیا تھا ۔یہ امریکا کی طرف سے بشار امریکی حکومت کی تصدیق اور تائید تھی۔تب سے بشار امریکی اور یہودی مفادات کی تکمیل کے لئے کام کررہا ہے۔امریکا بظاہر بشار کا شدید ترین مخالف اور ناقد نظر آتا ہے لیکن پہلے دن سے امریکا اسد خاندان کا محافظ ہے ۔بشار کی عدم مقبولیت کی بنا پر امریکا کی خواہش تھی کہ بشار کو اس وقت تک حکمران رہنے دیا جائے جب تک امریکا کو بشار کا متبادل نہیں مل جاتا۔اس لئے وہ ایک کے بعد ایک دوسرا منصوبہ سامنے لاتا رہا تاکہ امریکی مقاصد کی تکمیل تک بشار کا اقتدار صبح شام کا مہمان نظر آتا تھا، ایسے میں امر یکا نے روس کو آگے کردیا ۔29؍ستمبر 2015ء کو امریکی صدر اوباما اور روسی صدر پتین کی واشنگٹن میں ملاقات ہوتی ہے اور اس کے اگلے دن سے روس شام پر بمباری کا سلسلہ شروع کردیتا ہے ۔
جہاں تک امریکی کروز میزائیل حملوں کا تعلق ہے جس کا سبب شیخون حملہ قرار دیا جارہا ہے تو بشار نے پہلی مرتبہ یہ جرم نہیں نہیں کیا ۔اس حملے کی 21اگست 2013ء کے کیمیائی حملے کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں ،جس کے نتیجے میں چودہ سو سے زائد افراد موقع پر ہی انتہائی اذیت سے سسک سسک کر شہید ہوگئے تھے۔ اس وقت امریکا نے کسی عملی رد عمل کا اظہار نہیں کیا ماسوائے کچھ بیانات کے ۔اب نو منتخب امریکی صدر جن کی کامیابیوں میں مسلم دشمنی کا عنصر بڑی اہمیت رکھتا ہے ،یکایک کیسے مسلمانوں کی’’ محبت‘‘ میں گرفتار ہوگئے ؟اگر ٹرمپ کو شام کے مسلمانوں سے اتنی ہمدردی ہے تو انہیں بشار کے محلات کو نشانہ بنانا چاہئے تھا جہاں وہ موجود ہیں۔شام کے مسلمانوں کی بشار کی حکومت سے نجات کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں لیکن خاطر جمع رکھئے ،ایسا کچھ نہیں ہوگا ۔یہ سب کچھ Posturing ہے۔شام کی خانہ جنگی کا حل مسلم اُمہ کے پاس ہے ۔ یہ کہنا چند ماہ پہلے ایک ظالمانہ مذاق ہوتا لیکن الحمداللہ اسلامی فوجی اتحاد یا مسلم ممالک کا فوجی اتحاد تشکیل پاچکا ہے ۔14؍دسمبر 2015کو مسلم قیادت نے مسلم اُمہ کے اتحاد کا جو خواب دیکھا تھا وہ آج شرمندہ تعبیر ہے ۔یہ اتحاد’’دہشت گردی‘‘کے خلاف جنگ اور مزاحمت کا محاذ ہے ۔ پاکستانی فوج کے سابق سربراہ (ر) راحیل شریف کو دہشت گردی کے خلاف 39ممالک کے اتحاد کا سربراہ مقرر کردیا گیا ہے ۔پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے تصدیق کی ہے کہ اس حوالے سے معاہدے طے پاگیا ۔یہ تعیناتی حکومت کی مرضی اور جی ایچ کیو کی کلیرنس کے بعد ہوئی ہے۔جنرل راحیل شریف گزشتہ تین برس سے اندرون ملک دہشت گردی سے پنجہ لڑاتے رہے ہیں ۔اب یہی پنجے وہ بیرون ملک لڑائیں گے ۔شام میں امریکا اور روس مل کر بدترین دہشت گردی کا مظاہرہ کررہے ہیں ،انہیں آگاہ ہوجانا چاہئے کہ جنرل راحیل شریف کی سربراہی میں اُمہ کافوجی اتحاد ان کے خلاف صف آراء ہوا ہی چاہتا ہے ۔بشار الاسد کی اپنے ہی ہم وطنوں کے خلاف بد ترین دہشت گردی سے نجات دلانااس فوجی اتحاد کی پہلی ترجیح ہونی چاہئے ۔امت مسلمہ کو اس اتحاد سے خیر کی توقعات بے پناہ ہیں۔امریکہ ،روس اور مغرب جو اب تک ’’آئو مل کر مسلمانوں کو قتل کریں‘‘کا خوفناک کھیل کھیلتے رہے ہیں ،ان کی عالم اسلام کے خلاف دہشت گردی کے جواب میں یہ فوجی اتحاد ایک بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے۔