مینڈھر//حکومت کی دور دراز اور پہاڑی علاقوںمیں طبی سہولیات کی فراہمی کے تمام تر دعوئوں کی پول اس وقت کھل گئی جب مینڈھر ہسپتال کوتین سال پرانی ایمبولینس گاڑی فراہم کی گئی ۔سب ضلع ہسپتال مینڈھر کیلئے ایک این جی او نے 2013 میں کریٹیکل کیئر ایمبولینس دینے کا اعلان کیا تھا اور این جی او کے مالکان نے 2013 میں ایمبولینس کو ڈائریکٹر ہیلتھ کے حوالے بھی کردیا لیکن یہ ایمبولینس ڈائریکٹر ہیلتھ نے سب ضلع ہسپتال مینڈھر کے حوالے نہیں کی اورتین سال تک گاڑی جموں میں ہی کہیں چلتی رہی جسے اب مینڈھر بھیجاگیاہے ۔مقامی لوگوں نے محکمہ صحت کے اعلی ٰآفیسران کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ جب کوئی گاڑی پرانی ہو جاتی ہے تواس وقت اس کو مینڈھر بھیجاجاتاہے جبکہ مینڈھر کی سڑکیں اور یہاں کے حالات ایسے ہیں کہ یہاں نئی سے نئی گاڑیاں چاہئیں۔ انہوں نے ایم ایل اے مینڈھر جاوید احمد رانا کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے شکر گزار ہیں جنہوں نے بورڈ میٹنگ میں یہ بات اٹھائی کہ 2013 میں مینڈھر کو دی گئی گاڑی ابھی تک نہیں ملی اور اسی کے بعد گاڑی فراہم کی گئی ہے۔لوگوںنے ایم ایل اے مینڈھر کا اس بات کیلئے بھی شکریہ ادا کیاہے کہ انہوںنے ایمبولینس کے علاوہ حلقہ ترقیاتی فنڈسے دو ایمبولینس گاڑیاں دی ہیں ۔وہی انہوںنے اس بات کی تحقیقات کرانیکا مطالبہ کیاکہ ایمبولینس گاڑی کیوں کر تین سال بعد مینڈھر کو دی گئی۔