راجوری //پہلے سے ہی بدنظمی کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بننے والے ضلع ہسپتال راجوری میں مرکزی معاونت والی سکیم جنانی ششو سرکشا کریاکرم (JSSK)کاعمل درآمد نہ کے برابر ہے ۔اس سکیم کو یکم جون 2011کو مرکزی حکومت نے حاملہ خواتین کی مدد کیلئے متعارف کرایاتھاجس کے تحت ان خواتین کا سرکاری ہسپتالوںمیں مفت علاج کے ساتھ ساتھ دیگر سہولیات بھی مفت فراہم کراناہے ۔سکیم کے تحت حاملہ خواتین کو ہسپتال لانا لیجانا بھی محکمہ کی ذمہ داری ہے ۔ اگرچہ اس سکیم کے تحت کروڑوں روپے خرچ کئے جارہے ہیں لیکن مستحقین کو ان کا حق نہیں مل رہا اور ضلع ہسپتال راجوری میں خاص طور پر اس کا عمل درآمد نہ کے برابر ہے ۔راجوری ہسپتال میں ایک ایسا کیس سامنے آیاہے جس میں ڈاکٹر نے مریضہ کو میڈیکل سٹور سے دوائی تجویز کرنے کے بجائے بازار سے ایک دوائیوں کی دکان سے خریدنے کا مشورہ دیا جو اس سکیم کی خلاف ورزی ہے ۔ذرائع نے بتایاکہ افسانہ کوثر زوجہ ذاکر حسین نامی خاتون کو بیس اپریل کو ہسپتال کے گائنک وارڈ میں زیر علاج رکھاگیا اور پھر اسے بچہ ہونے پر 21اپریل کو ڈسچارج کیاگیا۔تاہم اسے ہسپتال کے اندر سے ہی دوائیاں فراہم کرنے کے بجائے باہر سے دوائیاں خریدنے کا مشورہ دیاگیا ۔ذرائع نے بتایاکہ ڈیوٹی پر تعینات ڈاکٹر کے کہنے پر خاتون کے گھروالوں نے ایک دکان سے بل زیر نمبر2553کے تحٹ 830روپے کی دوائی خریدی ۔ذرائع نے مزید بتایاکہ اب اس سلسلے میں خاتون کے اہل خانہ نے محکمہ صحت کے پاس شکایت درج کرائی ہے جس میں کہاگیاہے کہ جے ایس ایس کے سکیم کے تحٹ انہیں ہر ایک سہولت مفت دی جانی ہوتی ہے لیکن ان کے ساتھ اس کے برعکس پیش آیاگیا۔ہسپتال کے اندرونی ذرائع کاکہناہے کہ ہسپتال میں اس طرح کا صرف ایک ہی کیس نہیں بلکہ اس طرح کے سینکڑوں کیس ہوںگے ۔ذرائع کاکہناہے کہ اس سکیم کی عمل آوری نہ ہونے کا معاملہ اعلیٰ افسران کے نوٹس میں بھی ہے لیکن انہوںنے بھی خاموشی اختیار کررکھی ہے ۔ذرائع کاکہناہے کہ ایک طرف حکومت اس سکیم کے تحت مناسب فنڈز کی فراہمی کے دعوے کرتی ہے اور دوسری طرف حالت یہ ہے کہ خواتین کو کوئی بھی سہولت نہیں ملتی ۔جب اس سلسلے میں محکمہ کے ایک سینئر افسر سے بات کی گئی تو انہوںنے اس بات کی تصدیق کی کہ پرائیویٹ دکان کے بل کے ساتھ ایک شکایت موصول ہوئی ہے جس کی تحقیقات کی جارہی ہے ۔