سرنکوٹ //فضل آباد سے مرہوٹ 8کلو میٹر سڑک جس کاکام نو سال قبل یعنی 2008میں محکمہ پی ایم جی ایس وائی کے تحت ہواتھا ، دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں سڑک روابط کی واضح مثال ہے ۔اس روڈ کا نو برسوں میں صرف زمین کی کٹائی کاکام ہوسکاہے اور مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ محکمہ کی ملی بھگت سے پیسے نکال لئے گئے ہیں لیکن کام کچھ بھی نہیںہوا۔اب حالت یہ ہے کہ لوگوں کی زمین کھسکتی جارہی ہے اور بارشوں کے موسم میں پسیاں گرتی رہتی ہیں۔اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے نذیر احمد ، محمد رشید ، غلام محمد ،محمد شفیع ، عبدالخالق اور محمد اشرف نے کہاکہ سڑک کے کام پر 2008میں پہلا ٹینڈر نکلا تاہم ٹھیکیدار نے زمین کی کٹائی کرنے کے بعد کام چھوڑ دیااور زمین مالکان کو خدا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیاگیا ۔انہوںنے بتایاکہ پھر پہلے اور دوسرے مرحلے کیلئے دوبارہ سے ٹینڈر منظور ہوئے اور کام دوسرے کسی ٹھیکیدار کو دیاگیا جس نے وہی کام کیا جو پہلے والے ٹھیکیدار نے کیاتھا۔لوگوں کاکہناہے کہ تب سے اب تک اس روڈ میں کوئی تبدیلی نہیںہوئی اور زمین کی کٹائی کرکے نہ ہی زمین کسی کام کی چھوڑی گئی ہے اور نہ ہی روڈ بن پائی ہے ۔انہوںنے کہاکہ 2008سے لیکر اب تک یہ معمول بن چکاہے کہ برسات کے موسم میں ہر سال پسیاں گرآتی ہیں اور ان کی زمین کسی کام کی نہیں رہی ۔انہوںنے کہاکہ کام کی رفتار بہت ہی سست ہے اور متعلقہ محکمہ کی خواب غفلت میں ہے ۔انہوںنے وزیر برائے تعمیرات عامہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کرکے ان کی مدد کریں اور سڑک کی تعمیر کاکام جلد سے جلد پایہ تکمیل تک پہنچایاجائے ۔