مینڈھر//سرحدی علاقوں میں بس رہے لوگوں کو انتظامیہ اور حکومت کی طرف سے نہ ہی محفوظ بنکر بناکر دیئے گئے ہیں جہاں وہ فائرنگ اور گولہ باری کے وقت پناہ لے سکیں اور نہ ہی انہیں بروقت طبی امداد ملتی ہے ۔ ان لوگوں کیلئے اعلانات تو بہت ہوئے لیکن حقیقی معنوں میں کسی نے بھی کوئی اقدام نہیں کیا ۔ جمعرات کو جب ایک طرف ہندوپاک افواج بالاکوٹ اور کرشنا گھاٹی سیکٹروں میںایک دوسرے کے مد مقابل تھیں تو وہیں دوسری طرف لوگ انتظامیہ اور حکومت کو کوس رہے تھے ۔ فائرنگ اور گولہ باری کے نتیجہ میں پانچ افراد کے زخمی ہونے کے بعد انہیں ہسپتال پہنچانے کا کوئی بھی فوری کوئی بندوبست نہیں تھا جس پر لوگوں نے سخت برہمی کا اظہار کیا ۔انہوںنے کہاکہ زخمی افراد گھنٹوں زمین پر پڑے رہے لیکن انہیں ہسپتال منتقل کرنے کیلئے ایمبولینس گاڑی نہیں پہنچی ۔ انہو ں نے کہا کہ جمو ں اور سانبہ میں سر حد پر لو گوں کے لئے پختہ بنکر تعمیر کئے گئے ہیں اور جب بھی علا قہ میں فا ئر نگ ہوتی ہے تو لو گ اپنی جان بچانے کیلئے بنکرو ں میں چھپ جا تے ہیں جبکہ خطہ پیر پنچال کے سرحدی علاقو ں میں لو گو ں کومرنے کیلئے چھوڑ دیاگیاہے اور ان کے ساتھ صرف زبا نی وعدے کئے جاتے ہیں۔بعد ازآں کسی طرح سے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیاگیاجہاں ممبراسمبلی مینڈھر جاوید احمد رانا نے بھی ان کی خیریت معلوم کی ۔ اس موقعہ پر انہو ں نے مرکز ی و ریا ستی حکو متو ں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سر حدی علا قہ میں رہنے والی عوام کو اس وقت تک حکو مت کی جانب سے کوئی بھی انتظا مات نہیں کئے گئے ہیں جس کی وجہ سے فائرنگ اور گولہ باری میں بھاری نقصان اٹھاناپڑتاہے ۔ انہو ں نے مر کز ی و ریا ستی حکو متو ں سے ما نگ کی کہ سر حدی عوام کے لئے پختہ بنکر تعمیر کئے جا ئیں تا کہ مشکل گھڑی میں وہ اپنی قیمتی جا نیں بچا سکیں ۔ اس دوران ایس ڈی ایم مینڈھر راہل یا دو، ایس ڈی پی او مینڈھر ریا ض تا نترے اور تحصیلدار مینڈھر شہزاد لطیف خان نے بھی سب ضلع اسپتال مینڈھر میں پہنچ کر حالات کا جائزہ لیا اور دو شدید زخمیوں کو جموں منتقل کرایا۔وہیں ایس ڈی پی او مینڈھر نے منکوٹ کے سرحدی علاقوں کا دورہ کیا ۔