انقرہ//امریکہ کے وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے ترکی کے اپنے ہم منصب میولت کاووسوگلو سے شام کی صورت حال کے ساتھ ہی قطر اور عرب ممالک کے درمیان جاری تنازع کے سلسلے میں ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے ۔ ترکی کی وزارت خارجہ کے ذرائع نے دونوں رہنماؤں کے درمیان بات چیت کی تصدیق کی ہے لیکن بات چیت کے بارے میں تفصیلات نہیں دی گئی ہے ۔ مسٹر ٹلرسن نے جمعہ کو خلیجی ممالک کو قطر کے خلاف ناکہ بندی میں نرمی برتنے کی وکالت کرتے ہوئے کہا تھا کہ موجودہ تنازع سے اسلامک اسٹیٹ کے دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں علاقائی تعاون پر اثر پڑے گا۔ ترکی کے صدر طیب ارودغان نے مسٹر ٹلرسن کے تبصرہ کے حوالے سے جمعہ کو ہی روزہ افطار کے دوران استنبول میں کہا تھا '' قطر سے ناکہ بندی مکمل طور پر ہٹا لینی چاہئے ''۔ واضح ر ہے کہ پیر کو سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات سمیت چھ ممالک نے جنگجو تنظیموں کی مدد کرنے کا الزام لگاتے ہوئے قطر سے اپنے سفارتی اور تجارتی تعلقات ختم کر لئے تھے ۔ قطر نے اگرچہ کہا ہے کہ وہ کسی بھی دہشت گرد تنظیم کی حمایت نہیں کرتا اور ان کے اوپر لگائے گئے الزام بے بنیاد ہیں۔