دوڈہ //ڈوڈہ میں ایک چھوٹی مسافر گاڑی کے گہری کھائی میں گرنے سے6مسافر لقمہ اجل اورڈرائیور سمیت7دیگر زخمی ہوگئے جبکہ کشتواڑ میں ایک لوڈ کیرئیر کو حادثہ پیش آنے سے اس کا ڈرائیور لقمہ اجل بن گیا۔ پُل ڈوڈہ سے چیرالا کی طرف جارہی ایک چھوٹی مسافر گاڑی(ٹریکس) زیر نمبر JK02AR/8358پونیجا نامی گائوں کے نزدیک اچانک ڈرائیور کے قابو سے باہر ہوئی اور سڑک کے کنارے سے لڑھک کر قریب150فٹ گہری کھائی میں جا گری ۔جس جگہ پر یہ حادثہ پیش آیا، وہ جگہ پہاڑی چٹانوں پر مشتمل ہے جس کے باعث گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوئی اور اس میں سوارتمام مسافر ہلاک یا زخمی ہوگئے ۔جس وقت یہ حادثہ پیش آیا، اس وقت گاڑی میں کل13مسافر سوار تھے۔تمام زخمیوں کو فوری طور ضلع اسپتال ڈوڈہ منتقل کیا گیاجہاں ڈاکٹروں نے 4 مسافروں کو مردہ قرار دیاجبکہ دو مسافر اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ بیٹھے ۔ حادثے کا شکار ہونے والی گاڑی میں سوار جن4مسافروں کی موقعہ پر ہی موت واقع ہوئی تھی، ان میں 80سالہ محمد یوسف خان ولد ولی خان ساکن سونار تھواہا، 30سالہ اوم پرکاش ولد ودھیا لعل بنکھن تھواہا، فضل دین ولد روشن دین ساکن جندانی اور پنجاب سنگھ ولد خزان چند ساکن بونجواہ شامل ہیں۔ اسپتال میں45سالہ راجیشور سنگھ ولد بودھا سنگھ ساکن رانکاسمیت 2مسافر چل بسے ، تاہم ان میں سے ایک کی شناخت نہیں ہوسکی ۔ دیگر 7 میں سے 4زخمی مسافراسی اسپتال میں زیر علاج ہیں جبکہ پردیپ سنگھ، ونش شرما اور کریتیکا شرما کو مزید علاج و معالجہ کیلئے گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت انتہائی نازک بنی ہوئی ہے۔ ادھر پارڈر سے ضلع ہیڈکوارٹر کی طرف جارہا ایک لوڈ کیرئیر زیر نمبرJK17/2125 دوران سفر ڈرائیور کے قابو سے باہر ہوکر اُلٹ گیا۔اس حادثے میں گاڑی کا26سالہ ڈرائیور اختر حسین ساکن لنک روڑ کشتواڑ موقعے پر ہی لقمہ اجل بن گیا۔ادھر وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ڈوڈہ میں رونما ہوئے سڑک حادثے میں6لوگوں کی قیمتی جانیں تلف ہونے پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ حادثے کی خبر سنتے ہی وزیر اعلیٰ نے جموں ہسپتال کے انتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ فوری طورحادثے میں زخمی افراد کی اعلیٰ طبی نگہداشت فراہم کریں۔