سرینگر//دلی کی ایک عدالت نے قومی تحقیقاتی ایجنسی(این آئی اے) کے ہاتھوں گرفتار کئے گئے کشمیری تاجر ظہور احمد وٹالی کی ریمانڈ میں مزید5روز کی توسیع کی ہے جبکہ این آئی اے نے پیر کو نئی دلی میں حریت(گ) چیرمین سید علی گیلانی کے دو بیٹوں سمیت مزید کئی علیحدگی پسند لیڈران سے پوچھ تاچھ کی۔ ظہور احمد وٹالی کو17اگست کے روز نئی دلی میں گرفتار کیا گیا اور اس سے قبل این آئی اے نے کئی بار انہیں پوچھ تاچھ کیلئے ایجنسی کے ہیڈکوارٹر پر طلب کیاتھا۔وٹالی پر بیرون ملک سے غیر قانونی طور رقومات حاصل کرکے جموں کشمیر میں علیحدگی پسندوں اور جنگجوئوں میں تقسیم کرنے کا الزام ہے اور ان کے خلاف انڈین پینل کوڈ اور غیر قانونی سرگرمیوں کے انسداد سے متعلق قانون کے تحت کیس درج کیا گیا ہے۔ ظہور احمد وٹالی کوابتدائی طور دس روزہ ریمانڈ پر دیا گیا تھا اور پیر کو ان کی ریمانڈ ختم ہونے کے موقعے پر انہیں دوبارہ ڈسٹرکٹ جج پونم اے بمباکی عدالت میںپیش کیا گیا۔ این آئی اے کے وکیل نے وٹالی کو پوچھ گچھ مزید دس دنوں کیلئے ایجنسی کی تحویل میں دینے کی درخواست کی ، تاہم عدالت نے ظہور احمد شاہ وٹالی کی ریمانڈ میں صرف مزید پانچ روز کی توسیع کا حکم جاری کیا۔معلوم ہوا ہے کہ پیر کو ہی این آئی اے کے افسران نے بزرگ مزاحتمی رہنما اور حریت کانفرنس(گ) کے چیرمین سید علی گیلانی کے دو بیٹوں نسیم گیلانی اور نعیم گیلانی سے ایک مرتبہ پھر پوچھ تاچھ کی۔دونوں صبح10بجے این آئی اے کے دلی ہیڈکوارٹر پر پہنچے اور ان سے پوچھ تاچھ کا سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔انہیں مالی معاملات سے متعلق دستاویزات بھی ساتھ لانے کیلئے کہا گیا تھا جو انہوں نے ایجنسی کے سامنے پیش کئے۔قابل ذکر ہے کہ دونوں یہ گزشتہ پندرہ روز کے دوران دونوں بھائیوں سے پوچھ تاچھ کا تیسرا مرحلہ تھا۔ذرائع نے بتایا کہ ان کے علاوہ این آئی اے افسران نے ایک اور علیحدگی پسند کارکن غلام نبی بٹ سے بھی پوچھ تاچھ کی۔ایجنسی نے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ سے وابستہ نور محمد کلوال کو بھی پیر کے روز ہی نئی دلی طلب کیا تھا لیکن فوری طور یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا وہ ایجنسی کے سامنے پیش ہوئے یا نہیں؟ واضح رہے کہ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی(این آئی اے) نے 24جولائی کے روز حریت کانفرنس(گ) کے چیرمین سید علی گیلانی کے داماد الطاف احمد شاہ، حریت ترجمان محمد اکبر کھانڈے عرف ایاز اکبر، معراج الدین کلوال،بشیر احمد بٹ عرف پیر سیف اللہ، حریت(ع) کے میڈیا ایڈوائزر آفتاب ہلالی شاہ عرف شاہد الاسلام اور نیشنل فرنٹ چیرمین نعیم احمد خان کو حراست میں لیکر دلی منتقل کیا۔ ان پر رقومات کے غیر قانونی لین دین اور ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے کے الزامات عائد کئے گئے ہیں اور یہ تمام لیڈران اِس وقت عدالتی ریمانڈ کے تحت جیل میں ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک اور کڑی کے تحت انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے فریڈم پارٹی کے چیرمین شبیر احمد شاہ کو گرفتار کیا ہے اور انہیں بھی عدالتی احکامات پرتہاڑ جیل منتقل کیا گیا ہے۔