منجاکوٹ//منجاکوٹ کے گھمبیر مغلاں علاقے میں قیامت خیز مناظر دیکھے گئے جہاں ایک ساتھ ایک ہی کنبہ کے سات افراد کی نعشوںکو پرنم آنکھوںسے دفن کردیاگیا۔یہ تمام افراد گزشتہ رو ز جموں پونچھ شاہراہ پر ناریاں کے مقام ایک سڑک حادثہ کاشکار ہوکر لقمہ اجل بن گئے تھے ۔مرنے والوں میں ڈپٹی کمشنر راجوری کے پرسنل اسسٹنٹ محمود احمد مغل ، ان کی زوجہ ، تین بچے ، ایک چھوٹا بھائی اور ایک چھوٹی بہن شامل ہیں ۔یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب ان کی کار زیر نمبرJk11B 4300جموں سے واپس راجوری آتے ہوئے ناریاں کے مقام حادثے کاشکار ہوکر مناور دریا میں جاگری ۔تمام سات افراد کی نعشیں گزشتہ شام کو ہی ضلع ہسپتال منتقل کردی گئی جہاںسے انہیں آخری رسومات کی ادائیگی کیلئے آبائی گائوںگھمبیر مغلاں روانہ کیاگیا ۔منگل کے روز ساڑھے بارہ بجے تمام افراد کی نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔بعد ازآں نعشوں کو پرنم آنکھوں اور چیخ و پکار کے ساتھ سپرد لحد کردیاگیا۔ایک مقامی نوجوان پرویز احمد نے بتایاکہ انہوںنے زندگی میں پہلی مرتبہ اتنا دردناک حادثہ دیکھاہے جس میں ایک ہی کنبے کے سات افراد لقمہ اجل بنے ہوں۔نماز جنازہ اور آخری رسومات کی ادائیگی میں سابق وزیر شبیر احمد خان ،سابق اسپیکر مرزا عبدالرشید ، ممبر قانون ساز کونسل وبودھ گپتا ، ڈپٹی کمشنر راجوری شاہد اقبال چوہدری ، ایس ایس پی راجوری یوگل منہاس ، اوقاف اسلامیہ کے ایڈمنسٹریٹر عبدالقیوم ڈار،سابق ایم ایل اے اسلم خان اور ضلع افسران و بڑی تعداد میں سیاسی ، سماجی و مذہبی رہنمائوںبھی نے بھی شرکت کی ۔دریں اثناء اس حادثے کاشکار بننے والے آٹھویں نوجوان کی تلاش جاری ہے تاہم اسکے بارے میں ابھی تک کچھ پتہ نہیں چلا۔اس کی پہچان وقار مغل ولد اقبال مغل ساکن گھمبیر مغلاں کے طور پر کی گئی ہے جس کے بارے میں کہاجارہاہے وہ بھی اسی کار میں سفر کررہاتھا جس کو حادثہ پیش آیا ۔جیسے ہی اہل خانہ کی طرف سے وقار کی گمشدگی کے بارے میں اطلاع دی گئی تو پولیس اور انتظامیہ نے حرکت میں آکر اس کی تلاش شروع کردی ۔ اس دوران ایس ایچ او نوشہرہ کلدیپ کرشن ،انچارج پولیس چوکی چٹیار فرید احمد ، فوج اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیموں نے مقامی لوگوں کی مدد سے حادثہ والی جگہ پہنچ کر دریا میں اس کو تلاش کرناشروع کردیااور اس سلسلے میں غوطہ خوروں کی مدد بھی حاصل کی گئی ہے ۔انتظامیہ کے ایک افسر نے بتایاکہ ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر راجوری ، ایس ڈی پی او نوشہرہ اور دیگر افسران کی قیادت میں ٹیمیں موقعہ پر ہیں اور فوج کی مدد بھی لی گئی ہے لیکن ابھی تک نوجوان کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چلا۔ان کاکہناتھاکہ صرف حادثے والی جگہ ہی نہیں بلکہ نوجوان کی تلاش بیری پتن سندر بنی تک کی جارہی ہے ۔انہوںنے بتایاکہ تلاش جاری ہے لیکن ابھی تک نوجوان کاکچھ پتہ نہیں چلا۔