پونچھ//سابق ریاستی وزیر اور ممبر پارلیمنٹ طارق حمید قرہ نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں وائمی امن، خوشحالی اور ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کا واحد حل اس پیچیدہ مسئلے کے تئیں نیک نیتی اور سنجیدہ کاﺅشوں میں مضمر ہے۔ اُنہوںنے کہا کہ اگر کسی تناور درخت کی جڑ میںخرابی پیدا ہو جائے تو اُسے شاخ تراشی یا دوا پاشی سے دُور نہیں کیا جا سکتا بلکہ اُس کے لئے ماہرِ نباتات مرض کا علاج کریں گے۔یہاں جاری پریس بیان کے مطابق ”پونچھ یوتھ انٹیلیکچوﺅلز فورم“کی جانب سے ’©پیس اینڈ ہارمونی فار پراسپیریٹی آف جموں اینڈ کشمیر‘ کے موضوع پر ڈاک بنگلہ پونچھ میںمنعقدہ سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے قرہ نے کہاکہ مسئلہ کشمیر کے پُر امن حل کے لئے بھی وسیع القلب اور وسیع النظر اور ماہر سیاست دانوں کی ضرورت ہے نہ کہ ’ نیم حکیم خطرہ جان‘ سیاست دانوں کی۔ وہ اس تقریب میں مہمان خصوصی کے طور شرکت کررہے تھے ۔اس موقعہ پر مُختلف مکتب فکر کے افراد، دانشوروں، کالج کے طلبہ و طالبات، مُختلف سماجی و غیر سرکاری تنظیموں اور نوجوانوں نے شرکت کی۔قرہ نے کہاکہ آئینِ ہِندمیں کشمیر اور عوامِ کشمیر کے مسائل کے حل کی بہت بڑی گُنجائش موجود ہے اور موجودہ مرکزی حکومت بھی اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ جموںو کشمیر ایک مسئلہ ہے لیکن اُسے حل کرنے میں صرف اپنی سیاست اور ووٹ کی خاطر کوئی سنجیدگی نہیں دکھا رہی ورنہ آئینی یا قانونی طور پر کوئی طاقت اس مسئلے کا انکار نہیں کر سکتی۔ موصوف نے کہا کہ عرصہ دراز سے تنگ نظر سیاست دانوں نے عوامی جذبات کو بھڑکا کر اُنہیں مُختلف فرقوں، تہذیبوں اور مذاہب میں بانٹ رکھا ہے جو ریاست اور مُلک کی ترقی ، خوشحالی اور امن و امان کی راہ میں بڑی رُکاوٹ ہے۔ موصوف کاکہناہے کہ آئے روز دیش بھگتی اور آئینِ ہِند کی نِت نئی تعریف پیش کرنے والے ایسے سیاست دانوں سے حُب الوطنی کی سند کی ہر گز ضرورت نہیں ہے کیوں کہ ہم گاندھی جی والی دیش بھگتی میں یقین رکھتے ہیںنہ کہ اُن کے قاتل نتھو رام گوڈسے کی۔ اُنہوں نے کہا کہ ایسے لوگ ہندوستان کے ہر گز دوست نہیں ہو سکتے جو آئے روز اقلیتوں پرظُلم و ستم کرتے ہیں بلکہ اُن سے مُلک کی سا لمیت کو بڑا خطرہ لاحق ہے اور ایسے افراد کے ہوتے ہوئے مُلک کی تباہی کے لئے بیرونی دُشمنوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ قرہ نے دیش بھگتی کا راگ الاپنے والوں سے مُخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ذرا اپنی تاریخ پر بھی نظر ڈالو اور بتاﺅ کہ تُم میں سے کتنوں نے مُلک کی جنگ آزادی میںحصہ لیا تھا بلکہ اگر عوام کے سامنے تمہاری تاریخ کھول کر رکھی جائے تو تُمہاری حُب الوطنی تارتار ہو جائے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ میں بُنیاد پرست ہونے پر فخر محسوس کرتا ہوں کیوں کہ جب تک کوئی شخص اپنے مذہب کی بُنیاد ہی نہیں جانتا تو وہ دوسرے مذہب کے ماننے والوں کو عزت و احترام سے نہیں دیکھ پائے گا،اس لئے کہ کسی بھی مذہب کی بُنیاد نفرت پر نہیں رکھی گئی ہے۔ موصوف نے کہا کہ ہندوستان دُنیا کا ایک عظیم جمہوری مُلک ہے اور اسے ہندو راشٹر نہیں بنایا جا سکتا اور نہ ہی یہاں کے با غیور عوام کسی کو اس کی جازت دیں گے کیوں کہ اس کی پہچان ہی کثرت میں وحدت ہے۔ قرہ نے کہا کہ ہندوستان کی اس گنگا جمنی تہذیب کے گُلدستے کی بہترین مثال پونچھ کا یہ اجتماع ہے جسے دیکھ کر دِل کو تسکین ملتی ہے کیوں کہ یہاں نوّے فی صد مُسلم آبادی ہونے کے باوجود اس محفل میںشُرکاءکی کثیر تعداد ہندوﺅں،سکھوں اور عیسائی بھائیوں پر مُشتمل ہے۔ موصوف نے کہا کہ خِطہ پیر پنجال کے عوام اور بالخصوص نوجوانوں کے خیالات سُن کر یہ محسوس ہوا ہے کہ یہ مٹی ٹیلنٹ، قابلیت اور صلاحیت کے اعتبار سے بہت زرخیز ہے۔ قرہ نے فورم کے چیئر مین اعجاز احمد مدنی اور فورم کے تمام ارکان کا سیمینار میں مدعو کر نے پر شکریہ ادا کیا ۔اس دوران فورم کی طرف سے کالج کے چار طلباءکو نقد انعام سے نوازاگیا جنہوںنے موضوع پر پرچے پڑھے ۔سیمینارمیں گورو رام داس سیوا سو سائٹی، پونچھ سماج سیوا سوسائٹی، اکھل بھارتی ودیارتھی پریشد، کرسچن سیوا دل، سماجی کارکن کمل جیت سنگھ، گوجر لیڈر شمشیر ہکلہ، کالج سٹوڈنٹس یونین، تنظیم جامعہ انوارالعلوم، کشمیری یوتھ فورم منڈی، مینڈھر یوتھ ایسو سی ایشن، جامعہ تعلیم القرآن تراڑانوالی بفلیاز اور وُکلا نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ نظامت کے فرائض نامور شاعر اور سابق وارڈن گوجر ہوسٹل شیخ سجاد حُسین نے انجام دیئے ۔آخر پر فورم کے چیئرمین اعجاز مدنی نے قرہ سمیت تمام لوگوں کاشکریہ اد اکیا۔