جنیوا //شام میں امن مساعی کے لیے سرگرم اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسیٹفن دی میستورا نے بتایا ہے کہ شامی بحران پر بات چیت کے لیے بشارالاسد کی حکومت کا ایک وفد آج بدھ کو جنیوا پہنچ رہا ہے۔دوسری جانب شامی حکومت کیایک ذریعے کا کہنا ہے کہ جنیوا میں ہونے والے اجلاس میں اپوزیشن اور حکومتی نمائندوں کے درمیان براہ راست مذاکرات نہیں ہوں گے۔جنیوا میں شامی اپوزیشن کے نمائندوں اور اقوام متحدہ کے اہلکاروں کے درمیان اہم ملاقات ہوئی ہے تاہم اقوام متحدہ کی طرف سے واضح کیا گیا ہے کہ مذاکرات میں کسی فریق پر کوئی پیشگی شرط عاید نہیں کی جائے گی۔اطلاعات کے مطابق جنیوا میں ہونے والے اجلاس میں شامی حکومت اور اپوزیشن کے وفود کے درمیان الگ الگ بات چیت کی جائے گی۔ یو این مندوبین شامی حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں سے الگ الگ ملاقات کریں گے۔ بعد ازاں امریکی معاون وزیر خارجہ ڈیوڈ ساٹر فیلڈ بھی اپوزیشن کے نمائندوں سے ملیں گے۔ اس کیبعد سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان بھی شام میں امن عمل آگے بڑھانے کے لیے اسد رجیم اور اپوزیشن کے رہ نماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔ادھر شامی حکومت کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے مندوب دی میستورا نے حکومت کو یقین دلایا ہے کہ جینوا میں ہونے والے اجلاس میں شامی اپوزیشن کے ساتھ براہ راست ملاقات پر زور نہیں دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ شام میں سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے بشارالاسد کو اقتدارسے الگ کرنے کی کسی شرط پر بھی بات نہیں کی جائے گی اور نہ ہی شامی اپوزیشن کے سعودی عرب کے شہر الریاض میں ہونیوالے اجلاس اور اس کے فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے شامی حکومت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
+