غزہ //فلسطینیوں نے امریکہ سے یروشلم کواسرائیل کا دارالحکومت تسلیم نا کرنے پر زور دیا ہے۔فلسطینی صدر محمود عباس کے مشیر محمود حباش نے کہا کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسا کیا تو یہ اقدام "امن عمل کی مکمل تباہی" کا باعث بن سکتا ہے۔عباس کی موجودگی میں بات کرتے ہوئے حباش نے کہا کہ یروشلم کی حیثیت میں کسی بھی تبدیلی کی صورت میں "دنیا کو اس (اقدام)کی قیمت ادا کرنی پڑی گی"۔واشنگٹن میں عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ یروشلم کو اسرائیل کے دارالحکومت کی طور پر تسلیم کرنے پر اس لیے غور کررہے ہیں تاکہ اپنی صدارتی انتخابی مہم کے دوران امریکی سفارت خانے کو وہاں منتقل کرنے کے اپنے وعدہ کو ایفا کرنے میں تاخیر کے تاثر کو ختم کر سکیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صداراتی مہم کے دورا ن وعدہ کیا تھا کہ وہ صدر بننے کے بعد تل ابیب میں قائم امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کردیں گے۔اسرائیل یروشلم کو اپنا دارالحکومت قرار دیتا ہے اور اقو ام متحدہ سمیت تقریباً تمام دنیا یہ کہتے ہوئے ا س موقف کو مسترد کرتی ہے کہ اس کی حیثیت فلسطینیوں کے ساتھ امن بات چیت میں طے ہونی چاہیے۔فلسطینی یروشلم کے مشرقی حصے کو اپنا مستقبل کا دارالحکومت قرار دیتے ہیں۔یاد رہے امریکی صدر کی طرف سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کے فیصلے پر شدید غم وغصے اور رد عمل سامنے آنیلگے ہیں۔ اس اقدام کے نتیجے میں فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان طویل عرصے سے تعطل کے شکار مذاکرات کی بحالی کے امکانات مزید کم ہوجائیں گے۔امریکی خفیہ اداروں اور فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے اقدام سے خطے میں تشدد کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔ یہ فیصلہ اسرائیلی عربوں سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کو اشتعال دلا کر شدت پسندی کی طرف مائل کرسکتا ہے جبکہ مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں موجود امریکی تنصیبات پر بھی حملوں کے خدشات کئی گناہ بڑھ جائیں گے۔ادھر عرب لیگ نے کہا ہے کہ امریکہ کے یروشلم کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے سے تشدد بڑھنے کا خدشہ ہے ۔عرب لیگ کی ویب سائٹ پر شائع خبر کے مطابق انہوں نے کہا''ہم آج واضح طور پر یہ کہتے ہیں کہ ایسا کرنا منطقی نہیں ہے ۔ اس سے امن و امان کی بجائے بنیاد پرستی اور تشدد بڑھے گی. "انہوں نے کہا،" اس سے صرف ایک فریق کو فائدہ پہنچے گا. اسرائیل حکومت امن مخالف ہے ۔امریکی انتظامیہ کے افسر کے اگلے ہفتے امریکی صدر ٹرمپ طرف ایسے اعلان کے امکان کے ایک دن بعد عرب لیگ نے سیکرٹری جنرل احمد ابو غیاث کا یہ بیان سامنے آیا ہے ۔ غور طلب ہے کہ فلسطینی لوگ یروشلم کو اپنی ممکنہ راجدھانی کے طور پر دیکھتے ہیں. بین الاقوامی برادری یہودیوں، مسلمانوں اور عیسائیت کے مقدس پورے یروشلم پر اسرائیل کے دعوے کو تسلیم نہیں کرتی۔مسٹر ٹرمپ کا یہ اعلان سابق امریکی صدور کی پالیسی سے مختلف ہو گی. سابق امریکی صدور نے یروشلم کے مسئلے کو باہمی بات چیت سے حل کرنے کے حق میں تھے . مسٹر ٹرمپ کے اس اعلان سے فلسطینی اور خلیج ممالک میں ناراضگی بڑھ سکتی ہے .