غزہ//مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی اعلان کے خلاف دنیا بھر میں مسلمانوں نے احتجاجی مظاہرے شروع کردیے ہیں جس میں فیصلے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جارہا ہے۔ فلسطینی تنظیم حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی اپیل پر ملک بھر میں امریکی فیصلے کے خلاف یومِ غضب منایا جارہا ہے، غزہ میں فلسطینیوں اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان جھڑپوں اور احتجاجی مظاہرین پر صیہونی فوج کے تشدد اور فائرنگ کے نتیجے میں 104 افراد زخمی ہوئے ہیں۔اہلِ فلسطین امریکی اعلان کے ردعمل میں آج دوسرے روز بھی سراپا احتجاج ہیں جس کی وجہ سے بعض علاقوں میں مکمل ہڑتال ہے اور تعلیمی ادارے بھی بند ہیں جب کہ خواتین اور بچوں سمیت مظاہرین سڑکوں پر امریکی صدر کی تصاویر اور جھنڈے جلارہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کئے جانے کے بعد فلسطین میں ایک نئی تحریک انتفاضہ شروع ہوگئی ہے۔ملک گیر عوامی احتجاجی مظاہروں کےدوران کئی مقامات پر اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں میں تصادم ہوا۔ پر تشدد مظاہروں میں کم سے کم 104 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے رد عمل میں مقبوضہ غربِ اردن میں فلسطینیوں اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں 104 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق زیادہ تر فلسطینی آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں سے زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم کم از کم ایک فلسطینی فائرنگ سے زخمی ہوا۔