تہران//ایران نے سعودی عرب اور امریکہ کی جانب سے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ریاض پر یمنی حوثی باغیوں کی جانب سے داغا جانے والا میزائل ایران نے فراہم کیا تھا۔ایرانی دفترِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یمن میں ان کے کوئی ہتھیار موجود نہیں اور ویسے بھی ملک محاصرے میں ہے اور ایسا ہونا ممکن بھی نہیں۔سعودی فوج نے ریاض کے جنوبی حصے میں ایک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا تھا۔ اس کے نتیجے میں کسی قسم کے نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔حوثی باغیوں کے کنٹرول میں ٹی وی چینل المسیرہ کی ویب سائٹ پر حوثی میزائل فورسز سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ منگل کی شام برکان ٹو میزائل فائر کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ میزائل حملہ یمنی عوام کے خلاف سعودی اتحاد کی جارحیت کے ردعمل میں کیا گیا۔المسیرہ نے کہا ہے کہ میزائل کا نشانہ یماما محل میں شہزادہ سلمان کی سربراہی میں ہونے والی میٹنگ تھی۔اس سے پہلے اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ یمن سے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پر داغے جانے والے میزائل پر ایران کے فراہم کردہ ہتھیاروں کا نشان تھا۔