اقوام متحدہ//دنیا کے 128 ملکوں نے یروشلم کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طورپر تسلیم کئے جانے کے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اعلان کی مخالفت کرتے ہوئے امریکہ سے اپنا فیصلہ بدلنے کے لئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تجویز کے حق میں ووٹ کیا۔ اقوام متحدہ میں ہندوستان سمیت کل 128ملکوں نے کل اس تجویز سے خود کو الگ رکھا اور 21ملکوں نے ووٹ نہیں دیا۔ مسٹر ٹرمپ نے اس تجویز کے حق میں ووٹ کرنے والے ملکوں کو دی جانے والی مالی مدد بند کرنے کی دھمکی دی ہے جس کے بعد فلسطین کے ساتھ کھڑے دکھائی دینے والے ملکوں نے بھی خود کو اس تجویز سے الگ رکھا۔امریکہ کے مغربی اور عرب حامیوں کے ذریعہ تجویز کے حق میں ووٹ کرنے پر وہ اس معاملے میں اکیلا پڑ گیا۔ وہ مصر، اردن اور عراق جیسے حامیوں کو فوجی اور مالی مدد فراہم کرتا ہے۔ فلسطین کے صدر محمود عباس کے ترجمان نے اس ووٹنگ کو فلسطین کی جیت بتایا ہے ۔وہیں اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نتن یاہو نے اس ووٹنگ کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ واضح رہے کہ مسٹر ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طورپر تسلیم دکرنے کا اعلان کرکے امریکہ کی دہائیوں پرانی پالیسی کو بدل دیا تھا۔یروشلم میں مسلم،یہودی اور عیسائیوں کے مذہبی مقام ہیں۔قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ شہر کی حیثیت کے بارے میں فیصلہ ’باطل اور کالعدم‘ ہے اس لیے اسے منسوخ کیا جائے۔اس سے قبل گذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ مذکورہ قرارداد کے حق میں رائے دینے والوں کی مالی امداد بند کر دی جائے گی۔ تاہم امریکی دھمکیوں اور دباؤ کے باوجود القدس کے حوالے سے قرارداد بھاری اکثریت سے مسترد کر دی۔رائے شماری سے پہلے فلسطینی وزیرِ خارجہ نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ دھونس اور دھمکیوں کو خاطر میں نہ لائیں۔دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نے ممکنہ طور پر منظور ہونے والی اس قرارداد کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ کو ’جھوٹ کا گڑھ‘ قرار دیا تھا۔گذشتہ روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے چار مستقل اور دس غیر مستقل ارکان نے بھی ایسی ہی ایک قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا تاہم صرف امریکی مخالفت کی وجہ سے قرارداد منظور نہیں ہوسکی تھی کیونکہ امریکہ سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے۔