روم//پوپ فرانسس کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع کا مزاکرات کے ذریعے دو ریاستی حل نکالا جانا چاہئے۔ویٹی کن سٹی کے سینٹ پیٹرز اسکوئر میں اپنے خطاب کے دوران کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا کا کہنا تھا کہ ہمیں مشرق وسطیٰ کے بچوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام دکھائی دیتے ہیں جو اسرائیل اور فلسطینیوں میں مسلسل جاری کشیدگی کی وجہ سے پریشانی میں مبتلا ہیں۔ دنیا بھر کے مسیحی بھی اْن نہتے بچوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موجودگی کو محسوس کریں جو جنگ سے بدحال ہیں اور خود انسان کی طرف سے اْن پر ڈھائی گئی سختیوں اور مصیبتوں کا شکار ہیں۔پوپ فرانسس نے کہا کہ آئیے ہم دعا مانگیں کہ اس تنازعے کے فریقین بات چیت اور مزاکرات کے لئے رضا مند ہو جائیں تاکہ مسئلے کا ایسا حل تلاش کیا جاسکے جس میں دو ریاستیں بین الاقوامی سرحدوں پر رضا مندی کے ساتھ پر امن طور پر رہ سکیں۔واضح رہے کہ امریکا نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے اپنا سفارتخانہ وہاں منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔خطاب میں کہا ہے کہ وہ یروشلم کے معاملہ پر امن کے خواہاں ہیں اور انھوں نے اسرائیلوں اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات کی امید ظاہر کی ہے ۔خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا اعتراف کرتے ہوئے انھوں نے 'مذاکرات سے تیار کردہ حل… جو دو ریاستوں کو امن کے ساتھ رہنے دے ' کی سوچ کی حوصلہ افزائی کی۔حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد عالمی برادری نے اس فیصلے پر منفی ردعمل ظاہر کیا۔گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے وہ قرارداد منظور کرلی جس میں امریکہ سے کہا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس یا مشرقی یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان واپس لے ۔قرارداد کے حق میں 128 ممالک نے ووٹ دیا، 35 نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جبکہ نو نے اس قرارداد کی مخالفت کی۔قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ شہر کی حیثیت کے بارے میں فیصلہ 'باطل اور کالعدم' ہے اس لیے منسوخ کیا جائے ۔اطلاعات کے مطابق پوپ فرانسس نے سینٹ پیٹرزا سکوئر میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'اس خوشی کے موقع پر ہم رب سے یروشلم اور مکمل ہولی لینڈ میں امن کے لیے دعاگو ہیں۔'ان کا کہنا تھا کہ 'ہم دعا کرتے ہیں کہ فریقین میں مذاکرات بحال کرنے کی خواہش کامیاب ہو جائے اور یہ کہ ایک مذاکرات سے تیار کردہ حل مل جائے جو کہ دو ریاستوں کو پرامن طریقہ سے بین الاقوامی سطح پر تسلیم کردہ سرحدوں میں رہنے دے ۔