مینڈھر//نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر و ممبر اسمبلی مینڈھر جاوید احمد رانانے سرحدی کشیدگی پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ قوموں کی تعمیر و ترقی کا راز ملی اتحاد میں مضمر ہے،تقسیم کسی بھی مسئلے کا پائیدار حل نہیں ہوسکتی ،حقیر سیاست نے یہاں کی تعمیر و ترقی کے بجائے معصوم عوام کو فرقوں اور علاقائی بنیاد کے نام پر بانٹ کر اپنا مفادات حاصل کرنے کی ناپاک کوشش کی ہے۔مینڈھر میں پارٹی کے یک روزہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے رانا نے کہاکہ انہوںنے مجموعی قومی مفادات کے حق میں بیشتر منصوبے منظور کروائے جن کی افادیت اور اہمیت کے متعلق سب علم رکھتے ہیں۔انہوںنے دعویٰ کرتے ہوئے کہاکہ ان منصوبوں میں پولیس ہیڈ کوارٹر بھیرہ،ڈگری کالج مینڈھر،منکوٹ اور بالاکوٹ میں دو نئی تحصیلوں کا قیام ،کسبلاڑی،منکوٹ،بھاٹہ دھوڑیاں،چھترال اور ساگرہ کیلئے الگ الگ نیابتوں کا قیام، منکوٹ اور بالاکوٹ میں دو الگ الگ تحصیل خوراک سپلائی دفاتر کا قیام،منکوٹ میں سی ڈی بلاک کا قیام چھجلہ اور منکوٹ میں دو الگ الگ مقامات پرموٹرایبل پل،سینکڑوں چھوٹی بڑی رابطہ سڑکیں ،درجنوں لفٹ اسکیمیں،سینکڑوں نئے اسکولوں کے ساتھ ساتھ درجنوں سکولوں کی درجہ بندی کا عمل،منی سیکریٹریٹ ،ماڈل ولیج جڑانوالی گلی ،کلسٹرماڈل ولیج گورسائی،اکلاویہ ماڈل سکول بھیرہ قابل ذکر ہیں ۔تاہم انہوںنے کہاکہ اس پسماندہ اسمبلی حلقہ کی تعمیر و ترقی کے لئے انہیں ابھی بہت کچھ کرنا ہے اوروہ مینڈھر کو ایک ماڈل اسمبلی حلقہ بنانا چاہتے ہیںجس کیلئے بلا امتیاز ذات و برادری تعاون کی ضرورت ہے۔ رانا نے کہا کہ آج ریا ست کو داخلی اور خارجی چیلنجوںکا سامنا ہے تاہم ابن الوقت لوگ کبھی اپنی سازشوں میں کامیاب نہیںہوںگے ۔انہوںنے کہاکہ پی ڈی پی اور بی جے پی کے اقتدار میں ریاست غیر یقینی کے دور سے گزر رہی ہے لہٰذا ریاست کی ملی شناخت کو بچانے کے لئے سب کو متحد ہو کر کام کرنا ہو گا،یہ دونوں جماعتیں اپنے اپنے مفاد کی خاطر کام کررہی ہیں اور عوامی مسائل کو فراموش کردیاگیاہے ۔جاوید احمد رانا نے کہا کہ ملک میں فرقہ پرستی زور پکڑ رہی ہے جو سیکولر ازم کیلئے ایک لمحہ فکریہ ہے ۔ان کاکہناتھاکہ ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ سراب ثابت ہو اہے اور سرکاری سکیموں سے اپنے ہی گھر بھرے جارہے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ جی ایس ٹی کا نفاذ کرکے غریبوں کوبھی مشکل میں ڈال دیاگیاہے اور اگرنیشنل کانفرنس کی سرکار ہوتی تو یقینا جی ایس ٹی کا اطلاق نہ ہوتا ۔جاوید احمد رانا نے کہا کہ موجودہ مخلوط سرکار کو تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے مستقبل کی کوئی فکر نہیں ہے اس سرکار نے نوجوان نسل کوایس آر او 520ایک میٹھے زہر کی شکل میںتحفہ کے طور پر دیا ہے۔ انہوںنے قصبہ کے نزدیک دو پیدل پل تعمیر کرنے کا اعلان کیا اورپارٹی کو آئندہ پنچایتی چنائو کیلئے مضبوط بنانے پر زور دیا۔