سرنکوٹ//نیشنل ہیلتھ مشن ملازمین کی کام چھوڑ ہڑتال کی وجہ سے دیہی علاقوں میں طبی نظام کی قلعی پوری طرح سے کھل کر رہ گئی ہے اور حکام کو اب طبی مراکز کو چلانے کیلئے درجہ چہارم کے ملازمین کا سہارا لیناپڑاہے ۔ بلاک میڈیکل افسر سرنکوٹ ذوالفقار احمد کی طرف سے ایک حکمنامہ جاری کیاگیاہے جس میں درجہ چہارم کے سولہ ملازمین کو طبی مراکز چلانے کا کام سونپاگیاہے ۔ یہ ملازمین دیہی علاقوں میں قائم متعدد طبی مراکز کا کام کاج سنبھالیںگے ۔ اس حکمنامے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مقامی شہریوں صدیق احمد ، عبدالمجید ، شہزاد احمد ، طارق مغل ، نظام دین ، فردوس خواجہ ،نثار بخاری اور فیصل شاہ نے کہاکہ محکمہ صحت کا جنازہ ہی نکل گیاہے اور اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ درجہ درجہ چہارم کے ملازمین طبی مراکز کا انتظام و انصرام سنبھالیںگے ۔ان کاکہناہے کہ محکمہ کو نیشنل ہیلتھ مشن ملازمین کی ہڑتال ختم کروانی چاہئے لیکن انہیں ٹس سے مس نہیں ۔ انہوںنے کہاکہ یہ کوئی مذاق نہیں کہ طبی نظام درجہ چہارم کے ملازمین چلائیں اور اگر ان کی غلطی سے کوئی نقصان ہوگیا تو ذمہ دار کون ہوگا۔ جب اس سلسلے میں بلاک میڈیکل افسر سے بات کی گئی تو انہوںنے کہاکہ یہ اقدام صرف اس لئے کیاگیاہے تاکہ ان طبی مراکز کو کھلا رکھاجاسکے ۔انہوںنے کہاکہ یہ ملازمین لوگوں کا علاج نہیں کریںگے بلکہ طبی مراکز کو کھولیںگے ۔ تاہم لوگوں کاکہناہے کہ طبی مراکز کے خالی کھولنے سے کسی کا بھلا نہیں ہوگا اور مقامی سطح پر ادویات کی بھی شدید قلت پائی جارہی ہے ۔