واشنگٹن // امریکہ میں امیگرین اہلکاروں نے ملک بھر میں درجنوں سیون الیون اسٹورز پر چھاپے مار کر وہاں غیر قانونی طور پر کام کرنے والے 21 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ سیون الیون امریکہ کی اْن کمپنیوں میں سے ایک ہے جو امریکہ میں قانونی طور پر کام کا اجازت نامہ نہ رکھنے والوں کو جزوقتی ملازمت کی پیشکش کرتا ہے۔ یہ چھاپے صدر ٹرمپ کے عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد شروع کئے گئے ہیں۔لاس اینجلس سے نیو یارک تک امریکہ بھر میں سیون الیون کے 98 اسٹورز پر بدھ کی علی الصبح چھاپے مارے گئے۔ امیگریشن اینڈ کسٹمز کے ایک اعلیٰ اہلکار ٹھامس ہومین کا کہنا ہے کہ یہ چھاپے امریکہ میں کاروبار کرنے والی اْن تمام کمپنیوں کیلئے ایک وارننگ کی حیثیت رکھتے ہیں جو غیر قانونی تارکین وطن کو کام کی پیشکش کرتے ہیں۔ ٹھامس ہومین نے کہا، ’’ہم اس بارے میں قانون کو نافذ کریں گے اور اگر کسی کو اس قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا تو نتائج کا ذمہ دار وہ خود ہو گا۔‘‘سیون الیون چلانے والی کمپنی کے امریکہ بھر میں 60,000 کے لگ بھگ اسٹور ہیں۔ امیگریشن حکام نے یہ نہیں بتایا کہ اْنہوں نے چھاپوں کیلئے اسی اسٹور کو کیوں چنا۔ تاہم اس کارروائی میں امریکہ کی 17 ریاستوں اور واشنگٹن دی سی میں کل 98 سیون الیون اسٹورز پر چھاپے مار کر اْنہوں نے اْن کے مالکان کو تین دن کی مہلت دی ہے جس میں اْنہیں اپنے اسٹور پر کام کرنے والے تمام افراد کے امیگریش اسٹیٹس کے بارے میں ثبوت پیش کرنے ہوں گے اور یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ قانونی طور پر کام کرنے کے اہل ہیں۔ٹھامس ہومین کا کہنا ہے کہ غیر قانونی تاکین وطن کو کام کی پیشکش کرنے والی کمپنیاں غیر قانونی امیگرین کو فروغ دینے کا باعث بنتی ہیں اور اْن کا محکمہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ امریکہ کی کوئی کمپنی غیر قانونی امیگرنٹس کیلئے مقناطیس کا کردار ادا نہ کرے۔ اْنہوں نے کہا کہ اْن کا محکمہ امریکی شہریوں کیلئے روزگار کے مواقع یقینی بنانے کیلئے یہ مہم جاری رکھے گا۔محکمہ امیگریشن اور کسٹمز کے ایک اور اعلیٰ اہلکار ڈیرک بینر نے کہا ہے کہ بدھ کے روز مارے جانے والے یہ چھاپے مستقبل میں کی جانے والی کارروائیوں کا پیش خیمہ ہیں۔