جموں//پی ڈی پی سے تعلق رکھنے والے حلقہ انتخاب حویلی پونچھ کے ممبراسمبلی شاہ محمد تانترے نے آر پار فائرنگ اور مائن بلاسٹ سے متاثر ہونے والے افراد کو امداد فراہم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ ضلع پونچھ کے ساتھ پچھلے چالیس سال سے ناانصافیاں ہوئیں جن کا تدارک کیاجاناچاہئے ۔ گزشتہ روز پیش کئے گئے بجٹ پر بحث میں کے دوران تانترے نے نیشنل کانفرنس لیڈر شفیع اوڑی اورکانگریس لیڈر نوانگ ریگزن جورا کی تقاریر کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ اپوزیشن کو اس بجٹ میں تنقید کیلئے کچھ نہیں ملا اور انہوںنے اس پر بات کرنے کے بجائے دفعہ 370کی بات کی ۔انہوںنے بجٹ کی سراہناکرتے ہوئے کہاکہ غیر ہنر مند وں کی یومیہ اجرت میں مزید اضافہ کیاجائے ۔ان کاکہناتھاکہ اگر ان کے بس میںہوتو پانچ سو کردیاجاتا کیونکہ آج مہنگائی میں ہر چیز گراں ہے اور مزدورکا 225روپے میں بھی کچھ نہیں بنے گا۔انہوںنے بجٹ کو عوام و ملازم دوست قرار دیتے ہوئے کہاکہ کاش درابو صاحب کسی سرحدی علاقے سے تعلق رکھتے تو انہیں بھی یہ احساس ہوتاکہ سرحدی لوگ کس قدر قیدی جیسی زندگی بسر کررہے ہیں۔تانترے نے کہاکہ سرحدی علاقوں کے لئے ضروری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جن کی آزادی سلب کرلی گئی ہے ۔انہوںنے کہاکہ فائرنگ اور گولہ باری سے کئی لوگ مارے گئے اور کئی زخمی ہوئے اورمائن بلاسٹ سے 800سے زائد لوگ اپاہج بن چکے ہیں،لہٰذاضرورت اس بات کی ہے کہ اس جانب بھی توجہ دی جائے کیونکہ یہ لوگ بھی امداد کے مستحق ہیں ۔ان کاکہناتھاکہ ان علاقوں میںبہتر طبی سہولیات اور بہترسڑک روابط فراہم کئے جائیں تاکہ کشیدہ حالات کے دوران زخمی ہونے والوںکو جلد سے جلد ہسپتال منتقل کیاجاسکے ۔انہوںنے صنعتوں کو توسیع دینے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ تب تک ریاست ترقی نہیں کرسکتی جب تک دو ردراز علاقوں تک صنعتوں کو توسیع نہیں دی جائے گی ۔انہوںنے کہاکہ سیکاب اور سڈکو کے مراکز پونچھ میں بھی قائم کئے جائیں،پونچھ معدنیات سے بھراہواہے جہاں بے پناہ ذخائر ہیں ،اگر ضلع میں صنعتی ترقی ہوگی تو روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوںگے ۔تانترے نے کہاکہ بے شک بیروزگاری پوری دنیا میں بہت بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے لیکن اس حوالے سے کچھ ہٹ کرسوچناہوگا اور ٹھوس اقدامات اٹھانے پڑیںگے ۔انہوںنے مرکز پر زور دیاکہ وہ بھی نوجوانوں کیلئے مزید اقدامات کرے اورایسی پالیسیاں بنائی جائیں تاکہ روزگار مل سکے ۔انہوںنے کہاکہ پونچھ اور راجوری کے بیس سے تیس ہزار نوجوان ممبئی میں کام کررہے ہیں اور انہوںنے اپنے ہنر اور محنت سے نام کمایاہے ،اس جانب توجہ دے کر ان کا حوصلہ اور بڑھایاجائے ۔تانترے نے کہاکہ ان کے حلقہ انتخاب میں چالیس سے پچاس فیصد لوگ سڑک روابط سے محروم ہیں جس کے نتیجہ میں طلباء کی تعلیم متاثر ہورہی ہے جو پیدل چل کر تعلیمی اداروں میں نہیں پہنچ پاتے ۔تانترے کاکہناتھاکہ تیس سے چالیس فیصد لوگوں کو پانی لفٹ کے ذریعہ فراہم کیاجاتاہے تاہم جب کوئی موٹر جل جائے تو ورکشاپ نہ ہونے کے باعث اسے پونچھ سے جموں لاناپڑتاہے اور نتیجہ کے طور پر ہفتوںلوگ پانی سے محروم رہتے ہیںاسلئے پونچھ میں ورکشاپ قائم کیاجائے یاپھر متبادل مشینری دستیاب رکھی جائے ۔انہوںنے ہوم گارڈ اور سیزنل ٹیچروں و دیگر ملازمین کے مطالبات پورے کرنے کی بھی مانگ کی ۔تانترے کاکہناتھاکہ پونچھ پچھلے چالیس سال سے بالکل مایوسی کا شکار رہا اوریہاں بیٹھی اپوزیشن نے چالیس سال میں اس ضلع کے ساتھ صرف وعدے کئے تاہم امید ہے کہ ضلع کے ساتھ ہوئی ان ناانصافیوں کا تدارک کیاجائے گا۔