پونچھ//سرکار کی جانب سے یوں تو بڑے بڑے دعوے کئے جاتے ہیں کہ عوام کو تمام بنیادی سہولیات کے ساتھ ساتھ اعلیٰ طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں لیکن سرحدی ضلع پونچھ کے تمام طبی مراکز خستہ حالی کا شکار ہیں۔خصوصی طور پر حدِ متارکہ کے قریبی علاقوں میں قائم طبی مراکز پر جنگ بندی کے دوران ہونے والی گولہ باری کی زد میں آکر زخمی ہونے والوں کا ابتدائی علاج معالجہ بھی نہیں ہو پاتا۔ان طبی مراکز میں سے ایک پرائمری ہیلتھ سینٹر بانڈی چچیاں ہے جہاں مریضوں کو مکمل علاج معالجہ تو دور مرہم پٹی کرنے والابھی کوئی نہیں ملتا۔ تفصیلات کے مطابق یہ ہسپتال 10بیڈوں پر مشتمل ہے لیکن ہسپتال میں تعینات ایک ڈاکٹر کو بھی کسی دوسری جگہ تبدیل کر دیا گیاہے جس کی وجہ سے وہاںکی عوام کو کئی طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔سرکار کی جانب سے اگر چہ اس ہسپتال میں ایک ایمبولینس بھی ہے لیکن وہ اس حالت میں نہیں ہوتی کی امرجنسی کے وقت اس کے ذریعہ مریضوں کو ایک جگہ سے دوسرے جگہ منتقل کیاجاسکے ۔اس بات کا انکشاف چند روز پہلے اس دن ہوا جب اسلام آباد کا ایک لڑکا بارودی مواد پھٹنے سے زخمی حالت میں بانڈی چچیاں ہسپتال لایاگیا اس زخمی بچے کے ساتھ آنے والے ورثا نے بتایا کہ ہسپتال میں کوئی ڈاکٹر موجود نہ تھا جس کی وجہ سے انھیں بچے کو ضلع ہسپتال پونچھ لانا پڑا۔انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں ایمبولینس تو کھڑی تھے لیکن اس کا ایک پہیہ ہی نہیں تھا جس کے بعد گائوں والوں نے چندہ کر کے کرائے پر گاڑی کی اور بچے کو ضلع ہسپتال پونچھ پہنچایا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہسپتال انتظامیہ پر معیاری علاج معالجہ فراہم کرنے کے بلند و بانگ دعوے کئے جاتے ہیں لیکن زمینی سطح پر صورتحال جوں کی توں ہے۔رابطہ کرنے پر بی ایم او منڈی ڈاکٹر مشتاق حسین جعفری نے بتایا کہ انہوں نے بانڈی چچیاں ہسپتال کا بذات خود دورہ کیا ہے اور وہاں کا جائزہ لیا۔انہوں نے بتایا کہ اس ہسپتال میں تعینات ڈاکٹر NHMکے تحت لگایا گیا ہے جو کام چھوڑ ہڑتال پر ہیں اس لئے وہاں تھوڑی پریشانی آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایمبولینس کے ٹائر پہلے بھی موجودتھے پھر بھی انہوں نے دو مزید ٹائر دینے کی ہدایات دے دی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ کوشش کر رہے ہیں کہ بانڈی چچیاں طبی مرکز کے ساتھ ساتھ تمام مراکز پر ہر طرح کی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ مریضوں کا بروقت علاج ہو۔