اقوام متحدہ //فرانس نے کیمیائی حملوں کی روک تھام کے لیے عالمی سطح پرایکشن گروپ تشکیل دینے پر زور دیا ہے۔اطلاعات کے مطابق فرانس کی جانب سے اقوام متحدہ کے 30 ملکوں سے مطالبہ کیا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا جنگوں کے دوران استعمال روکنے لیے مشترکہ ایکشن پر لان تیار کریں۔ یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے دوسری جانب روس کی زیرنگرانی شام میں ہونے والے زہریلی گیس کے حملوں کی تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں۔وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی روک تھام کے حوالے سے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں فرانس کے مندوب فرانسو ڈیلاٹر نے کہا کہ پیریس کی میزبانی میں آئندہ منگل کو ایک اہم اجلاس ہو رہا ہے۔ اس اجلاس میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی روک تھام اور مانیٹرنگ کے لیے بین الاقوامی گروپ تشکیل دینے پر زور دیا جائے گا۔ادھر دوسری جانب امریکی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فرانس میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے انسداد کیحوالے سے ہونے والے اجلاس میں وزیرخارجہ ریکس ٹیلرسن بھی شرکت کریں گے۔فرانس کی جانب سے تیس ممالک کے مندوبین کو مراسلہ بھیجا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق فرانس کی سفارشات کے مطابق عالمی ایکشن گروپ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں معلومات جمع کرنے، ان کی روک تھام کے لیے ضروری لائحہ عمل مرتب کرنے، محفوظ انداز میں مہلک ہتھیاروں کو ٹھکانے لگانے ، ان کے استعمال کے ذمہ داروں کی نشاندہی کرنے اور ان پر ضروری پابندیاں عاید کرنے کا مجاز ہوگا۔واضح رہے کہ فرانس کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے روک تھام کے لیے نیا عالمی ایکشن پلان بنانے کی تجویز ایسے وقت میں دی گئی ہے جب دوسری جانب شام میں بشارالاسد حکومت پر متعدد بار شہریوں پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملوں کا الزام عاید کیا گیا ہے۔ شام میں کیمیائی حملوں کے استعمال کی تحقیقات کے مطالبات میں اسد رجیم کا حلیف روس بھی رکاوٹ رہا ہے۔؎گذشتہ برس اقوام متحدہ نے الزام عاید کیا تھا کہ اسد رجیم نے چار اپریل 2017ء کو شہری آبادی کے خلاف خطرناک کیمیائی گیس سیرین کا بے دریغ استعمال کیا تھا جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں عام شہری مارے گئے تھے۔شام میں باغیوں کے خلاف خطرناک ہتھیاروں، کلورین گیس اور دیگر مہلک ہتھیاروں کے استعمال کا الزام عاید کیا تھا۔درایں اثناء اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی تحقیقات کاعمل دوبارہ شروع کرے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ’یو این‘ سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال گذشتہ سات سال سیجاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال اتنا ہی خطرناک اور عالمی سطح پر ممنوع ہے جتنا کہ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا انسانی آبادی کے خلاف استعمال ممنوع ہے۔