منڈی// 2016 میں سرکار کی جانب سے منڈی کے بلاک ساتھرہ میں پالی ٹیکنیک کالج کا کام ہاتھ میں لیا گیا تھا جو اس وقت تک کھدائی سے آگے نہیں بڑھ پایاہے ۔متعلقہ حکام کی سست روی پر مقامی لوگ برہم ہیں اور ان میں سخت غم و غصہ پایاجارہاہے ۔سابق سرپنچ محمد فضل قریشی کاکہناہے کہ سرکار نے پہلی بار منڈی کیلئے پالی ٹیکنیک کالج جیسے کسی اہم ادارے کو منظوری دی جس کے قیام کیلئے جگہ کا تعین بھی کرلیاگیا اورساتھ ہی اس کاتعمیری کام بھی شروع ہوالیکن وہ زمین کی کھدائی سے آگے نہیں بڑھ پایا۔انہوںنے کہاکہ نامعلوم وجوہات کی بناپرکام روک دیاگیاہے جس کا خمیازہ نوجوان نسل کو بھگتناپڑرہاہے جو پیشہ وارانہ تعلیم کا خواب دیکھ رہی ہے ۔فضل قریشی کے مطابق یہ کا م جے کے پی سی سی نے شروع کیاتھا لیکن افسوس کہ اس کو طویل عرصہ بیت جانے کے باوجود مکمل تو دور کی بات دوبارہ شروع بھی نہیں کیاگیا۔ شاہ حسین، جاوید اقبال ،ریاض احمد، حفیظ اللہ خان، شعبان علی صابری کاکہناہے کہ تحصیل منڈی کے اکثر نوجوانوں کو پیشہ وارانہ تعلیم حاصل کرنے کے لئے جموں یا ریاست سے باہر جانا پڑتا ہے جس کی وجہ سے انہیں کئی قسم کی مشکلات درپیش رہتی ہیں ۔ان کاکہناہے کہ اگر یہیں پر کالج بن جاتاتو وہ آرام سے تعلیم حاصل کرسکتے تھے لیکن نہ جانے کیا وجہ ہے کہ حکام نے اس اہم پروجیکٹ کو نظرانداز رکھاہواہے ۔انہوںنے وزیر اعلیٰ اور مقامی ممبران قانو ن سازیہ سے اپیل کی کہ وہ ذاتی مداخلت کرکے اس کالج کی تعمیر کو یقینی بنائیں تاکہ نسل کو مقامی سطح پر ہی پیشہ وارانہ تعلیم حاصل کرنے کا موقعہ مل سکے ۔