مینڈھر//گذشتہ کئی مہینوں سے کچھ طاقتیں سوشل میڈیا اور قومی نشریاتی چینلوں کے ذریعہ ممبر اسمبلی مینڈھر کی شبیہہ کو ایک طے شدہ سازش کے تحت بگاڑنے کی کوشش میں مصروف ہیں یہاں تک کہ مخالفین اس ضمن میں ایک لمحہ بھی ضائع کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ کبھی سیاسی مخالفین ذات اور جماعت کا سہارا لیکر، کبھی علاقائی تعصب کی بنیاد پر، کبھی تعمیر و ترقی کے نام پر ،کبھی طرزِ گفتگو پر،کبھی سرکار کے خلاف عوامی غیض و غضب کو ان کی ذات کے ساتھ منصوب کرکے،کبھی انتظامی ناکامی پر عوام کی ہمائت کا بہانہ بنا کر، کبھی من گھڑت اور فرضی الزامات کے ذریعہ ملک و قوم کے متعلق غلط اور بے بنیاد تشہیر کرکے ان کی سفید چادر کو داغ دار بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اس سلسلے میں ایک اجلاس میں لوگوں نے کہاکہ ممبراسمبلی مینڈھرکیخلاف سوشل میڈیاوقومی چینلوں کی مہم ایک منصوبہ بندسازش ہے۔اس بارے میں تنویر احمد خان نے کہا کہ جاوید احمد رانا کی عوام میں بڑتی ہوئی مقبولیت پر کچھ طاقتیں کافی فکر مند نظر آ رہی ہیں اور اس عوامی مقبولیت اور پذیرائی کی وجہ سے ان کی نیندیں حرام ہو چکی ہوئی ہیں کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ جب کسی کو اپنا مستقبل تاریک نظر آنے لگے تو اس قسم کے حربے اختیار کرنا قدرتی امر ہے۔اور حقیقت میں وہی طاقتیں پریشان ہو کر میڈیا کا سہارا لیکر قومی نشریاتی چینلوں کے ذریعہ ان کے سیاسی قد کو کم کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ لیکن شاید وہ اس حقیقت سے نا آشنا ہیں کے سچ ہمیشہ زندہ رہتا ہے اور ہمیشہ سچ ہی کی جیت ہوتی رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کل قومی نشریاتی چینلوں پر ایک من گھڑت اور فرضی الزامات کے ذریعہ ان کی اصل شعبہ بھگاڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔ دراصل حقیقت یہ ہے کہ مینڈھر میں یوم جمہوریہ کے موقع پر ایک مقامی سکول کے بچوں نے تقسیم انعامات کو لیکر مقامی انتظامیہ کے خلاف ان کی موجودگی میں زور دار احتجاج کیا تھا۔ طلبہ کا الزام تھا کہ ثقافتی اور تمدنی پروگراموں خصوصاً مارچ پاس میں ان کا سکول درجہ اول پر تھا لیکن مقامی انتظامیہ نے ایک سازش کے ذریعہ درجہ بندی میں تبدیلی کرکے بوائز ہائر سکنڈری سکول مینڈھر کو پوزیشن اول کا حق دار بنا دیا۔ جس کو لیکر سکولی طلبہ نے سٹیج پر انتظامیہ کے خلاف جم کر مظاہرہ کیا اور بعد میں سنگالہ چوک مینڈھر میں دھرنہ دیکر کافی دیر کیلئے قومی شاہراہ کو گاڑیوں کی آمدروفت کے بند بھی رکھا۔ اسی دوران دوسرے دن سکولی طلبہ اپنی شکایت کو لیکر ممبر اسمبلی مینڈھر کے گھر گئے۔جہاں موجود بہت سارے لوگوں نے بچوں کو زار و قطار روتے دیکھ ممبر اسمبلی کی توجہ اس جانب مبذول کروائی۔انتظامیہ کی نا انصافی کی وجہ سے تنگ آئے بچے آگ بھگولہ ہو گئے اور شدید احتجاج کرتے ہوئے انصاف کی مانگ کی قابل ذکر ہے کہ اس دوران بچوں نے وہاں ان ہی جملوں کا استعمال کیا جو اگلے دن وہ سٹیج پر انتظامیہ کی موجودگی میں کر چکے تھے۔ جس پر ممبر اسمبلی مینڈھر نے بچوں کو اپنی طرف سے انعامات سے نوازتے ہوئے کہا کہ میں اس ضمن میں ضلع اور مقامی انتظامیہ سے بات کروں گا کہ آخر یہ کیا وجہ ہے کہ معصوم بچوں کے حقوق پر دن دہاڑے ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔ لیکن مفادِ خصوصی رکھنے والوں نے اس موقع کو غنیمت جان کر تمام قومی چینلوں پر اس واقع کی نشریات کروانے میں کوئی بھی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا۔لیکن دکھ کی بات یہ کہ کسی بھی چینل نے اصل حقائق سے متعلق ایک جملہ تک بھی نہیں کہا ہے کہ یہ واقع آخر کیوںکر رونما ہوا ہے کہ قومی دن کے موقع پر معصوم بچوں کے ساتھ نا انصافی کیوں اور کس نے کی ہے۔ بجائے اس کے اس واقع کے متعلق اعلی سطح کمیٹی کے ذریعہ تحقیقات کروائی جاتی ’’اُلٹا چور کوتوال کو ڈھانٹے‘‘ شکست خوردہ سیاست نے اس واقع کا سہارا لیتے ہوئے اس پورے واقع کو ممبر اسمبلی مینڈھر کے نام منسوب کرکے عوام میں شبیہ بھگاڑنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے جو کہ قابل مذمت ہے۔حاجی میر محمد نے میڈیاکی مہم کوایک سازش قراردیا۔