بونجواہ میں سرکار مخالف مظاہرہ
بٹوت کشتواڑ شاہراہ گھنٹوں تک مسدودرہی
رفیع چودھری
گندو//ٹھاٹھری میں بونجواہ کے عوام نے سرکار کی جانب سے دوندی بونجواہ کیوا پل کیتھر سڑک کی خستہ حالی کو لیکر احتجاجی مظاہرہ کیا ، مظاہرین بونجواہ سڑک کی مرمت اور اس پر میکڈم بچھانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔مظاہرین نے اس سڑک کے19 کلو میٹر کی مرمت نہ کرنے پر وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اورمقامی ایم ایل اے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس علاقہ کو پوری طرح نظر انداز کر دیا گیا ہے ۔مقررین نے کہا کہ حکومت آئے روز سڑکوں کی مرمت اور تجدید کاری پر کروڑ وں روپے خرچ کرنے کا ڈھنڈورہ پیٹتی رہتی ہے لیکن اس کے باوجود اس علاقہ کی سڑکیں خستہ حال ہیں ۔انہوںنے ضلع انتظامیہ سے بونجواہ میں عوامی دربار منعقد کرنے ،کشتواڑ سے بونجواہ تک ایس آر ٹی سی بس سروس شروع کرنے کا بھی مطالبہ کیا ۔مظاہرین نے کئی گھنٹوں تک کشتوڑ قومی شاہراہ پر دھرنا دیا جسکی وجہ سے شاہراہ پر ٹریفک کی نقل و حرکت مسدود ہو گئی ۔بعدازاں تحصیلدار ہیڈ کوارٹر کشتواڑ تنویر الحق، ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر نہار رنجن، ایس ایچ او کشتواڑ سمیر جیلانی نائب تحصیلدار احسن حُسین پر مشتمل ضلع انتظامیہ کشتواڑ کی ایک ٹیم جائے موقعہ پر پہنچی اور یقین دہانی کرائی کہ 6فروری2018 سے اس سڑک کی مرمت اور میکڈم بچھانے کا کام شروع کیا جائے گا ،جسکے بعد مظاہرہ ختم کیا گیا ۔مظاہرین کی قیادت شفقت شاہین جعفر وانٹ،یوسف کین، اطہر بٹ، محمد اشرف و دیگران کر رہے تھے۔
رنگ روڈ کیلئے حصولِ اراضی کا معاملہ
جموں//مال ، پارلیمانی امور اور حج و اوقاف کے وزیر عبدالرحمان ویری نے ایم وائی تاریگامی اور اعجاز احمد خان کی مشترکہ توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ جموں اور سرینگر میں رنگ روڈ کی تعمیر کیلئے حاصل کی گئی اراضی کے مالکان میں دیہی و شہری علاقوں میں بالترتیب چار گنا اور دو گنا اضافی معاوضہ ادا کرنے کا کوئی بھی مد موجود نہیں ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ تا ہم حصولِ اراضی کے لازمی موڈ کے تحت اراضی مالکان لینڈ ایکو زیشن ایکٹ کے تحت ایوارڈ رقم سے 1.5 فیصد زیادہ رقم حاصل کرنے کے حقدار ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کیلئے کوششیں کی جا رہی ہیں کہ اراضی کے مالکان کو لینڈ ایکو زیشن ایکٹ کے مدوں کے تحت ہی معاوضہ ادا کیا جا سکے ۔
ڈوڈہ نیو میٹا ڈار ڈرائیورس یونین تحلیل
عظمیٰ نیوز
ڈوڈہ //نیو میٹا ڈار ڈرائیورس یوین ڈوڈہ تحلیل کر دی گئی ہے۔ اس سلسلہ میں یونین کے جنرل سیکرٹری اشفاق احمد کی جانب سے جاری ایک پریس بیان کے مطابق یونین کے عہدہ داروں نے یونین تحلیل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔بیان کے مطابق نئی باڈی کا انتخاب فوری طور عمل میں لایا جائے گا۔اس سلسلہ میں یگزیکٹو باڈی ممبران نے بھی اتفاق رائے سے یونین کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں ایک حلف نامہ پر بھی دستخط کئے ہیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ نیو میٹاڈار ڈرائیورس یونین ڈوڈہ زیر رجسٹریشن نمبر ALC/D/2035-36 بتاریخ 21.2.2015 رجسٹر شدہ یونین ہے۔
ٹھاٹھری کو علیٰحدہ حلقہ و ضلع کا درجہ دیا جائے :ڈیولپمنٹ فرنٹ
ڈوڈہ // ٹھاٹھری ڈیولپمنٹ فرنٹ نے ٹھاٹھری کو ایوان بالا میں نمائندگی اور ٹھاٹھری کو ایک الگ حلقہ ا ورالگ ضلع دینے کی مانگ کی ہے۔ ایک پریس بیان میں فرنٹ کے ممبران رام رتن منہاس، کلدپ کمار رائو ،اوم راج بہل ،کنور جیت سنگھ ٹھاکور ،بہاری لعل بھگت اور یوگ راج شرما نے ریاستی سرکار سے اپیل کی ہے کہ حلقہ اندروال اور بھدرواہ کے دور افتادہ اور پسماندہ علاقہ تحصیل کاہراہ اور تحصیل چراہلہ کے لئے کسی مناسب جگہ خصوصاً ہائر سیکنڈری سکول ملانو اور ہائر سیکنڈری سکول ہلارن کے وسطی مقام پر ڈگری کالج قائم کیا جائے ،جو کہ دونوں اضلاع کے طلاب کے لئے نزدیک ہو۔پریس بیان میں کہا گیا ہے کہ تحصیل ٹھاٹھری میں سرکاری ملازمین اور فوجی اہلکاروں نے اپنے بچوں کو رکھا ہے جس سے اس علاقہ میں رہائش کا سنگین مسلہ پیدا ہو گیا ہے اور کرایہ بھی جموں شہر سے زیادہ ہو گیا ہے،جسکی وجہ سے غریب طلاب کو اپنی پڑھائی جاری رکھنے میں کافی دقت آتی ہے، بعض طلاب اپنی تعلیم کو خیر باد ہی کر گئے ہیں کیونکہ وہ اپنے بچوں کی پڑھائی جاری نہیں رکھ سکتے ، جسکی وجہ سے تحصیل کاہراہ ا ور تحصیل چراہلہ میں ڈگری کالج قائم کرنے کی مانگ محسوس کی جا رہی ہے۔فرنٹ نے مزید کہا کہ ایوان بالا میں گُذشتہ70برسوں سے ٹھاٹھری کو کوئی نمائندگی نہیں ملی ہے ،جبکہ گندو ،ڈوڈہ ،کشتواڑ اور بھدرواہ کو یہ نمائندگی ملی ہے اور سابقہ ٹھاٹھری کو نظر انداز کیا گیا ہے ،جو اب 5 تحصیلوں میں تقسیم ہوا ہے۔فرنٹ نے اسکے علاوہ ٹھاٹھری کو ایک الگ حلقہ اور الگ ضلع کا درجہ دینے کی مانگ کی ہے۔انہوں نے کہا کہ سب ڈویژن ٹھاٹھری کو اندروال اور بھدرواہ حلقوں میں تقسیم کیا گیا ہے جو کہ کسی بھی صورت میںمناسب نہیں ہے۔اور اسی تقسیم کو اس علاقہ کی پسماندگی اور نظر انداز کرنے کو وجہ بتایا ہے۔فرنٹ نے سرکار سے ٹھاٹھری کو ایوان بالا میں نمائندگی اورالگ اسمبلی حلقہ اور ضلع دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسی سے اس علاقہ کی پسماندگی کو دور کیا جا سکتا ہے۔