کشتواڑ//ریاستی سرکار کے محکمہ صحت کے شعبہ میں معقولیت لانے کے متعلق باتوں ضلع کے مڑواہ کے درو دراز دیہات میں ہزاروں لوگوں کی زندگیاں خطے میں پڑی ہوئی ہیں،جہاں پر اب تک کوئی بھی ہیلتھ سے متعلق سہولیت دستیاب نہیں ہے۔مڑواہ میں سرکاری ایلو پیتھک ڈسپنسری گُذشتہ کئی برسوں سے کا م کر رہی ہے ،وہ بھی بغیر کسی ڈاکٹر اور نیم طبی عملے کے بغیر۔علاقہ کے لوگوں کی شکایت ہے کہ محکمہ علاقہ کے لوگوں کی صحت کے متعلق سنجیدہ نہیں ہے۔ان لوگوں کا مبینہ الزام ہے کہ گُذشتہ تین برسوں سے وہ ضلع انتظامیہ اور چیف میڈیکل افسر کے ساتھ اس مسلہ کو لیکر برابر رابطہ بنائے ہوئے ہیں لیکن وہ ایک دوسرے پر اسکا الزام لگا رہے ہیں۔انکا یہی جواب ہوتا ہے کہ ہم نے سٹاف کی دستیابی کے متعلق منصوبہ سیکرٹریٹ اور ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کو بھیجا ہے ۔مڑواہ کے ایک مقامی باشندے عبدل ریتاز نے کہا کہ یہ بد قسمتی کی بات ہے کہ علاقہ میں کئی ہیلتھ مراکز مقامی آشا ورکروں اور این آر ایچ ایم ملازمین چلا رہے ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مڑواہ ہیلتھ سنٹر کیلئے ایمبولنس جاری کی گئی تھی لیکن تا دم یہ بیکار ہے اور اسکی حلات بھی خستہ ہوئی ہے۔مقامی لوگوں کا یہ بھی الزام ہے کہ 6000 نفوس پر مشتمل ہے لیکن سرکار نے کبھی بھی انکے صحت کی کوئی پرواہ نہیں کی ہے۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ دو برسوں سے ہیلتھ سنٹر میں ڈاکٹر کی اسامی پوری نہیں کی گئی ہے ا ور ہیلتھ سنٹر کیلئے فوری طور ڈاکٹر دستیاب رکھنے کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ لوگوں کو علاج کے لئے ادھر اُدھر بھاگنا نہ پڑے۔اُن کی یہ بھی شکایت ہے کہ مڑواہ علاقہ کیلئے جن ڈاکٹروں کی تعیناتی کی جاتی ہے وہ باقاعدگی سے اپنے فرائض انجام نہیں دے رہے ہیں۔ان لوگوں کی یہ بھی شکایت ہے کہ وزیر صحت بالی بھگت دیہی علاقوں میں صحت کے شعبہ میں بہتری کا دعویٰ کرتے ہیںلیکن ریاست کو ابتر حالات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔انہوںنے متعلقہ وزیر اور ضلع انتظامیہ سے انکے مسائل کی جانب ہمدردانہ رویہ اپنانے اور ترجیح بنیادوں پر طبی عملہ تعینات کرنے کا مطالبہ کیا ہے،تاکہ لوگوں کے مشکلات کا ازالہ ہو ۔