سکھ طبقہ اقلیتی درجہ کا مستحق:تانترے
اسمبلی اور کابینہ میں نمائندگی دینے کی اپیل
جموں/ /ممبر اسمبلی حویلی پونچھ شاہ محمد تانترے نے ریاست میں سکھ طبقہ کو اقلیت کا درجہ دینے کی مانگ کرتے ہوئے قانون ساز اسمبلی اور کابینہ میں اس طبقہ کو نمائندگی دینے کی اپیل کی ہے۔ منگل کے روز قانون ساز اسمبلی میں بولتے ہوئے تانترے نے کہاکہ سکھ طبقہ کا ریاست کی تعمیر و ترقی میں اہم رول رہاہے اور ہمارے ملک کی یہ روایات بھی رہی ہیں کہ ایک گلدستہ کی مانند یہاں سب کو آگے لایا جاتا ہے اور مناسب نمائندگی دی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ جموں کشمیر کا سکھ طبقہ بکھرا ہواہے اس لئے ریاست کی کل آبادی کا لگ بھگ 2 فیصد حصہ ہوکر بھی طبقہ کے لوگ اپنا نمائندہ نہیں چن سکتے لہذا جس طرح سے اسمبلی میں خواتین کیلئے دو نشستیں مخصوص رکھی گئی ہیں اسی طرح سے سکھ طبقہ کیلئے بھی ایک نشست مختص رکھی جائے۔ ان کاکہنا تھا کہ سکھ طبقہ کو کابینہ میں بھی نمائندگی ملنی چاہئے اور ملک کی یہ روایت بھی رہی ہے کہ یہاں تمام تہذیبوں کو ایک گلدستہ کی مانند آگے لایا جاتا ہے۔ ان کاکہنا تھا کہ سکھ طبقہ اقلیتی درجہ کیلئے مانگ بھی کررہاہے اور اسے ریاست میں یہ درجہ ملنا چاہئے۔ تانترے نے کہاکہ اگرچہ حکومت نے پنجابی زبان کوتعلیمی نصاب میں شامل کرنے کا اقدام کیا ہے لیکن اس طبقہ کی ترقی ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور ریاستی سرکار اس جانب توجہ دے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست بھر کی طرح پونچھ میں بھی سکھ طبقہ کی لوگ بڑی تعداد میں آباد ہیں جن کے ساتھ انصاف کیا جائے۔
کامسر سڑک کی خستہ حالی پر عوام برہم
خطیررقم خرچ ،لیکن دسڑک کی حالت جوں کی توں
حسین محتشم
پونچھ//پونچھ تابنوت ڈھوکری سڑک کامسر کے مقام پر خستہ حال ہونے کے باعث آئے دن حادثات کا خدشہ لگا رہتا ہے لیکن اس کے باوجود متعلقہ عہدیدار اپنی عدم دلچسپی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ پونچھ سے بنوت ڈھوکری کو جانے والی اس سڑک پر حال ہی میں تار کو ل بچھائی گئی تھی جو چند ہی ماہ میں اکھڑ گئی ہے۔اب سڑک پر دوبارہ جگہ جگہ کھڈے پڑ گئے ہیں۔ سڑک کے کنکر باہر نمودار ہونے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ رات کے وقت گذرتے ہوئے عوام خوف کھارہے ہیں۔ مقامی عوام کا الزام ہے کہ اس سڑک کی مرمتی اور تار کول بچھانے کے دوران متعلقہ محکمہ کے عہدیداروں نے ٹھیکیداروں کے ساتھ مل کر معیاری کام نہیں کروایا ہے۔انہوں نے کہا کہ عرصہ دراز سے لوگ مطالبہ کر رہے ہیں کہ کامسر چوک سے محلہ رحمان نگر تک سڑک کا مرمتی کا دوبارہ کام کروا کر اس حصہ پر دوبارا تارکول بچھایا جائے لیکن عہدیدار کوئی دلچسپی نہیں لے رہے ہیں۔مقامی شخص راجندر سنگھ عرف سٹو نے سڑک کی خستہ حالی پر عہدیداروں کی عدم دلچسپی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ محکمہ آر اینڈ بی نے کروڑوں روپے سڑک پر لگا دیئے لیکن سڑک کی حالت جوں کی توں ہے ۔انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر جلد از جلد سڑک کی مرمت کا کام شروع نہ کیاگیا تو وہ لوگ سڑک کو بند کر کے احتجاج کریں گے۔
سیف الدین سوز کے خلاف
سماج سیوا سوسائٹی کا احتجاج
حسین محتشم
پونچھ// پونچھ کی غیر سرکاری تنظیم سماج سیوا سوسائٹی کی جانب سے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اس احتجاج کے دوران سابقہ صدر پردیش کانگریس کمیٹی پروفیسر سیف الدین سوز کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے مظاہرین نے نعرے بازی کی ۔مظاہرین نے سوز کے اس بیان کی مذمت کی جس میں انہوں نے مودی سرکار کو آر ایس ایس کی پالیسیوں پر چلنے والی سرکار کہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے ہمیشہ ملک کے ٹکڑے کرنے کی پالیسی سے کام لیا ہے اور آج بھی وہی کر رہی ہے جبکہ بی جے پی اس ملک کو جوڑنے کیلئے کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ذمہ دار لیڈر کو ایسی بیان بازی سے پرہیز کرنا چاہئے۔ احتجاج کے دوران سوسائٹی کے چیئر مین جگل کشور، جنرل سیکریٹری کوشل کمار، امت گپتا، پرب اپکار سنگھ، رمیش چندر پپی، اوم پرکاش، منظور احمد اور سوشیل سنوترا نے خطاب کیا۔
پولیس کابفلیازمیں عوامی دربار
امن وامان یقینی بنانے کیلئے عوام سے تعاون طلب
بختیار حسین
سرنکوٹ //سرنکوٹ پولیس نے ایس ڈی پی او سرنکوٹ اور ایس ایچ او سرنکوٹ کی قیادت بفلیاز میں عوامی دربار لگایا۔عوامی دربار کا اصل مقصد عوام اور پولیس کے مابین تعلقات کو بہتربناناوفروغ دینا اور لوگوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہے۔اس موقعہ پر ایس ڈی پی او اصغرعلی ملک اور انظر میر نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس ہمیشہ عام عوام کی بھلائی کی خاطر کام کرتی چلی آ رہی ہے اورپولیس اور عوام کے درمیان آپسی تال میل ہونا لازمی ہے جس سے عام انسان کو اس کے حقوق کا حصول ہو۔اس موقعہ پر انہوں نے عوام سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور عوام کو آپسی شراکت داری قائم رکھنی چاہیے تاکہ سماج میں امن و امان قائم رکھنے میں مدد ملے۔اس موقعہ پر لوگوں نے کافی تعداد میں شرکت بھی کی اور اپنے بیانات میں پولیس کے کام کی سراہنا بھی کی۔لوگوں نے ایس ایچ او سرنکوٹ انظر میر اور ایس ڈی پی او سرنکوٹ اصغر علی ملک کی سرنکوٹ میں تعیناتی پر سرنکوٹ عوام کی خوش قسمتی بتاتے ہوئے کہا کہ ایسے آفیسران قسمت سے ہی ملتے ہیں۔لوگوں نے پولیس کے کام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جس گذشتہ کئی ماہ سے جس طرح سے پولیس نے سماجی برائیوں پر شکنجہ کسا ہے وہ قابل تعریف ہے۔اس موقعہ پر سینکڑوں کی تعداد میں بفلیاز کے معزز اشخاص نے بھی شرکت کی اور سرنکوٹ پولیس کا شکریہ بھی ادا کیا جنہوں نے اس عوامی دربار کا اہتمام کیااور لوگوں کے مسائل سے آگاہ ہوئے۔
پیر پنچال عوامی پارٹی کا سرحدی کشیدگی پر اظہار تشویش
حسین محتشم
پونچھ//جموں کشمیر پیر پنچال عوامی پارٹی کی جانب سے یہاں ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں پارٹی سرپرست اعلی راجہ محمد عباس خان ایڈوکیٹ نے ریاست بھر میں بالخصوص جموں صوبہ کے راجوری و پونچھ اضلاع کے سرحدی علاقوں میں ہو رہی فائرنگ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزی کرنے میں پہل کرتا ہے جس کا جواب ہماری فوج کو بھی دینا پڑتا ہے جس سے لوگوں کا خون۔بہہ رہا ہے انہوں نے دونوں حکومتوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی مسلہ کا پائیدار حل بات چیت میں مضمر ہے جبکہ دونوں حکومتیں اس کا حل گولیوں میں تلاش کررہے ہیں۔ انہوں نے امن و امان کی بحالی کو برقرار رکھتے ہوئے دونوں حکومتوں کو ٹیبل ٹاک کے ذریعے مسائل کا حل نکالنا چاہئے۔اس موقع پر انہوں نے سرحدی فائرنگ کے دوران ہلاک ہوئے ملحوکین کے ورثہ کو پندرہ لاکھ اور زخمیوں کو پانچ پانچ لاکھ امداد دینے کی مانگ کی۔