گول//گول تتا پانی روڈ پر آج صبح مقامی لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ 18سال سے ان کو اس سڑک میں آئی اراضی اور پھلداردرختان کا کوئی معاوضہ نہیں ملا ہے اور ہر آنے والی انتظامیہ صرف یقین دہانی ہی کراتی ہے اور سرکاریں بھی لوگوں کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرتی ہیں ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کی اراضی ایک دو سال قبل سڑکوں میں آئی ان کی فائل فوراً بنی اور انہیں معاوضہ بھی دیاگیا لیکن اس سڑک میں آئی اراضی مالکان کے ساتھ سوتیلا رویہ رکھا جا رہا ہے ۔ احتجاجی مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہاں پر سومو ڈرائیوروں نے خود کرایہ بڑھایا اگر چہ سرکاری طور پر ایک کلو میٹر پر2روپے52پیسہ ایک سواری کا کرایہ بنتا ہے لیکن یہاں پر ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ دو کلو میٹر پر دس روپے پہلے سے ہی لیتے تھے لیکن دو روز سے خود ہی انہوں نے کرایہ بڑھایا جو نا جائز ہے ۔ احتجاج پر بیٹھے مظاہرین کے ساتھ تحصیلدار گول محمد اشرف نے کہا کہ ان کے مسائل حل کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ ریزولیشن دیں اور اعلیٰ حکام کو وہ اس بارے میں مطلع کریں گے ۔ تحصیلدار نے اس بات سے صاف انکار کر دیا کہ انہوں نے کوئی کرایہ نہیں بڑھایا ہے بلکہ یہ کرایہ خود ہی ڈرائیوروں نے بڑھایا ہے ۔ کرایہ سے متعلق اے آر ٹی او رام بن نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی غیر قانونی طو رپر کرایہ زیادہ لیتا ہے تو اُن کی شکایت پہنچتے ہی اُس کا پرمت رد کر دیا جائے گا دیگر کارروائی کی جائے گی ۔ تحصیلدار کی یقین دہانی کے بعد لوگوںنے ہڑتال ختم کر دی اور کہا کہ اگر مارچ تک یہ مسائل حل نہیں ہوئے تو دس مارچ کے بعد مکمل طور پرسڑک بند کر دی جائے گی جب تک نہ لوگوں کو معاوضہ دیا جائے ۔