گول//خشک سالی کے ساتھ ہی جہاں زمینداروں میں پانی کی عدم دستیابی سے ہاہا کار ہے وہیں چشمے کے سوکھ جانے سے لوگ پانی کی بوند بوند کے لئے ترس رہے ہیں اور انتظامیہ کے وعدے وفا نہیں ہوئے ۔ سب ڈویژن گول میں تقریباً چھ ماہ سے پانی کی ہاہا کار مچی ہوئی ہے لوگوں کو48گھنٹے میں صرف ایک گھنٹہ پانی میسر ہوتا ہے ۔ اگر چہ گول کی سول سوسائٹیوں نے بھی گول کی انتظامیہ اور ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا تھا کہ پچھلے سال کی طرح گول میں پانی کے ٹینکر لگائے جائیں اور محکمہ صحت عامہ کے ایکسن نے اس سلسلے میں خود ڈی ایس پی گول اور یہاں کی سول سوسائٹیوں سے فون پر بات کی تھی کہ ایک دو دن کے اندر اندر ٹینکر لگائے جائیں گے لیکن گول میں صرف ایک دن ٹینکر دیکھا گیا وہ بھی لوگوں کو پانی مہیا کرنے کے بجائے اُس پانی کو لینٹر کے لئے بیچا کرتے تھے اور بعدمیں غائب ہو گیا اور آج چھ ماہ کے بعد بھی کوئی بھی انتظامیہ اس کی طرف توجہ نہیں دے رہی ہے ۔ پانی کی ہاہا کار کو دور کرنے کے لئے محکمہ صحت پہلے سے کوئی قدم نہیں اٹھاتا ہے بلکہ جو پانی کے ذرایعے ہیں اُن پر مخصوص قسم کے لوگوں کا قبضہ ہوتا ہے جنہیں آج بھی چوبیس گھنٹے پانی دستیاب ہے اور مرتا صرف اور صرف بے بس لوگ جن کی پہنچ نہیں ہے اور جن کا کوئی سیاسی اپروچ نہیں ہے ۔ کئی جگہوں پر پانی آج بھی چوبیس گھنٹے ضائع ہوتا ہے اس سے قبل بھی کئی مرتبہ اے ای ای پی ایچ ای سے مطالبہ کیا تھا کہ محلہ کے حساب سے ایک نل چوبیس گھنٹے والا دستیاب رکھا جائے لیکن یہاں کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔گول کے موئلہ ، سلبلہ ، گول جمن ، مرکز گول، لوہار محلہ ، گگر سولہ، ڈاکہ، سیری پورہ ، ٹھٹھارکہ ، سنگلدان ، اندھ ، دلواہ داچھن ، ڈھیڈہ کے کئی علاقوں سے لوگوں نے ٹیلیفون پر بتایا کہ پانی کی ہاہا کار کی وجہ سے لوگ کافی پریشان ہیں اور انہوں نے ان علاقوں میں ٹینکر دستیاب رکھنے کا مطالبہ کیا اور علاقے سڑک رابطے سے جڑے ہوئے ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انتظامیہ اور محکمہ کو چاہئے کہ وہ پانی کی عدم دستیابی کو دور کرنے کے لئے پہلے سے ہی تیار رہے اور پانی کے ذرائعوں کو نیک نیتی سے تقسیم کیا جائے تا کہ خشک سالی میں بھی لوگ پانی کے لئے نہ ترسے ۔