راجوری //پچھلے پانچ مہینوں سے بارش نہ ہونے کی وجہ سے ندی نالے اور قدرتی چشمے خشک ہورہے ہیں جبکہ فصل اور سبزیوں کی کاشت بھی نہیں ہوپارہی ۔خشک سالی کی وجہ سے کسانوں کے چہروں پر مایوسی پائی جارہی ہے اور آئندہ مہینوں پانی کا شدید ترین بحران کا خدشہ ہے ۔اگرچہ پچھلے مہینے معمولی سی بارش ہوئی لیکن اس سے خشک زمین سیراب نہ ہوسکی اور نتیجہ کے طور پر گندم وسرسوں کی فصل میں نمایاں کمی ہونے کا اندیشہ ہے ۔ ضلع بھر کے کسان سال میں دو مرتبہ مکی اور گندم کی فصل اگاتے ہیں جبکہ کچھ لوگ سرسوں کی فصل بھی اگاتے ہیں لیکن اس بار بارش نہ برسنے کی وجہ سے فصلیں ہری بھری نظر نہیں آرہی اور کسان طبقہ اب مکی کی فصل سے بھی ناامید ہوچکاہے ۔پریشانی کے آثار اس قدر ہیں کہ کسان بارش کیلئے دعائیں مانگ رہے ہیں ۔اس صورتحال میں پانی کی قلت کا سامنا بھی ہے اور ندی نالے و چشمے سوکھتے جارہے ہیں ۔اسی سالہ بزرگ محمد حسین نے کشمیر عظمیٰ کو بتا یا کہ پیر پنجال پر برف باری نہ ہونے کی وجہ سے میدانی علاقوں میں پانی کی کمی پایاجانا تشویشناک ہے اور یہ ایک طرح سے خطرے کی گھنٹی ہے ۔انہوںنے کہاکہ ایسا خشک موسم کبھی کبھار ہی دیکھاگیاہے اور اگر بارشیں نہ ہوئیں تو کسان طبقہ کی زندگی پر برااثرپڑے گا۔ضلع کے کسانوں کامطالبہ ہے کہ حکومت مفت راشن اور ان کیلئے معاوضے کا اعلان کرے تاکہ خشک سالی سے ہونے والے نقصان کی بھرپائی ہوسکے ۔