راجوری//ضلع ہسپتال راجوری میں تیمارداروں کاجم غفیر مریضوں اور ہسپتال انتظامیہ کے لئے پریشانی کا باعث بنا ہواہے ۔تاہم انتظامیہ وارڈوں میں انگنت تیمارداروںپر روک لگانے میں ناکام ثابت ہورہی ہے ۔ عام طور پر ایک مریض کے پاس کم از کم پانچ افراد کئی کئی گھنٹوں تک بیٹھے رہتے ہیں جنہیں وہاں بیٹھنے سے کوئی منع بھی نہیں کرتا اور نہ ہی ان کے بیٹھنے کیلئے کوئی خاص اہتمام ہے ۔ ایک مریض محمدلطیف نے بتایا کہ راجوری ہسپتا ل میں ایسا لگتا ہے کہ مریض کہیں بس اڈے میں گاڑیوں کے انتظار میں بیٹھا ہواہو اور کوئی بھی نرس یا طبی عملے کا شخص مریضوں کے بسترپر بیٹھے افراد کوبیٹھنے سے منع نہیں کرتا ۔ انہوں نے بتایا کہ کئی مرتبہ ہسپتال انتظامیہ نے اس بات کا عندیہ دیا کہ تیمارداروں کی بھیڑ پر قابو پانے کے لئے لائحہ عمل تیار کیاجارہاہے لیکن اس پر عمل نہیںہوا۔ان کاکہناہے کہ بڑی تعداد میں لوگ آکر بیڈ وں پر بیٹھ جاتے ہیںجو گھنٹوں تک مختلف موضوعات پر محو گفتگو رہتے ہیں۔کچھ لوگوں کاکہناہے کہ ہسپتال میں مومی لفافے بھی کھلے عام استعمال کرتے ہیں جس پر بھی کوئی اقدام نہیں کیاجارہا ۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر راجوری سے اپیل کی ہے کہ ہسپتال میں بھیڑ پر قابو پایاجائے اور نظام میں بہتر ی لائی جائے ۔جب اس ضمن میں میڈیکل سپرانٹنڈنٹ راجوری ڈاکٹر محمود بجاڑ سے بات کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ ہسپتال انتظامیہ اس معاملے پر سنجیدہ ہے اور بہت جلد قواعد وضوابط وضع کئے جائیںگے۔ انہوں نے تیمارداروں سے اپیل کی کہ وہ ہسپتال میں غیر ضروری بیٹھنے سے پرہیز کریں تاکہ طبی عملے کو کام کرنے میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ انہوں نے خبر دار کیاکہ مریض کے پاس بیٹھنے کی وجہ سے انفکشن بھی ہوسکتاہے اس لئے غیر ضروری طور پر بھیڑ کا حصہ نہ بنایاجائے ۔