بھدرواہ//موسم سرما کے دوران برف باری کے دلفریب نظاروں سے لطف اندوز ہونے کے لئے اکثر سیاح بے تاب ہوتے ہیں اور یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ برف پڑتے ہی سیلانی برفانی مقامات کا رخ کرتے ہیں۔بھدرواہ ڈیولیمنٹ اتھارٹی اور شعبہ ٔسیاحت سے وابستہ دیگر ادارے بھی برف باری کے بعد سیاحوں کی آمد کے چشمِ براہ تھے مگر اسے بدقسمتی کہے یامتعلقین کی کوتاہی کہ وادی بھدرواہ جسے چھوٹے کشمیر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ،برف باری کی وجہ سے اہم سڑکیں بند پڑی رہیںجس کی وجہ سے سیلانی تو کیا عام لوگوں کی آمد رفت بھی مسدود ہو کر رہ گئی۔ضرورت اس بات کی تھی برقت برف ہٹائی جاتی تاکہ سیلانی اس دلفریب دادی کے حسین مناظر سے محظوظ ہوسکتے مگر ایسا نہیں ہوا ، اس سے جہاں سیلانی مایوس ہوگئے وہاں ہمارے سیاحتی شعبۂ کو بھی دھچکالگاگذشتہ ہفتہ بھدرواہ کے بالائی مقامات پدری ، گلدندہ اور جے گھاٹی میں رواں موسم سرما کی اچھی خاصی برف باری ہوئی لیکن متعلقہ حکام کی جانب سے بھدرواہ ۔ چمبہ اور بھدراہ ۔ بسولی سڑکوں سے برف نہ ہٹانے کی وجہ سے ان خوبصورت سیاحتی مقامات تک سیاحوں کی رسائی نہ ہوسکی۔سیاحت سے وابستہ تنظیموں اور اشخاص کہ کہنا ہے کہ ریاستی سرکار اور متعلقہ حکام وادیٔ بھدرواہ کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک روا رکھے ہوئے ہے۔ برف باری ہوئے ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود بھی ان سیاحتی مقامات کو جوڑنے والی سڑکوں سے ابھی تک برف نہیں ہٹائی گئی ہے۔شعبۂ سیاحت سے وابستہ لوگوں کو امید تھی کہ برف باری ہوگی ، سیاح آیئں گے اور وہ چار پیسے کمائیں گے مگر جب سڑکیں ہی بند رہیں تو ان کے پلان دھرے کے دھرے رہ گئے۔ جن سیاحوں نے ان سیاحتی مقامات کے لئے بکنگ کرا رکھی تھی ، سڑکیں بند رہنے کی وجہ سے انہوں نے اپنی بکنگ منسوخ کروادی۔بھدرواہ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے پبلسٹی آفیسر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ انہوں نے سیاحتی مقامات کو جانے والی سڑکوں سے برف ہٹانے کی متعلقہ حکام سے استدعا کی تھی تاکہ یہاں آنے والے سیاح ان خوبصورت مقامات سے لطف اندوز ہو سکیں۔ دریں اثناعلاقہ کے ہوٹل اور گیسٹ ہائوس مالکان نے حکومت اور متعلقہ حکام سے زور دار استدعا کی ہے کہ وہ گلمرگ اور پہلگام کے طرز پر ان سڑکوں سے برف ہٹانے کے فوری اور موثر انتظامات کرے۔ ٹریول ٹریڈ ایسوسی ایشن کے صدر طارق چوہدری نے کہا ہے کہ اس علاقہ میں سبھی سیاحتی مقامات کو جانے والی سڑکوں کو بغیر کسی تاخیر کے آمد و رفت کے قابل بنایاجانا چاہیئے تاکہ شعبہ سیاحت سے وابستہ لوگ اپنی روزی روٹی کما سکیں۔