بانہال // شاہراہ پر واقع قصبہ بانہال میں چنجلو نالہ کی وجہ سے رل±و اور دیوگول کی کئی بستیوں اور زرعی آراضی کو خطرہ لاحق ہے اور لوگوں کی بار بار کی اپیل کے باوجود بھی محکمہ فلڈ کنٹرول اور میونسپل کمیٹی بانہال کی طرف سے بچاو کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ہیں۔ چنجلون ملوٹھ ، ڈارپورہ ، رلو اور دیوگول (قصبہ بانہال ) کی بستیوں کے بیچوں بیچ سے گذرنے والے اس نالے سے رلو میں کئی رہائشی مکان اور لوگوں کی ملکیتی آراضی نشانے پر ہیں جبکہ چنجلو سے قصبہ بانہال کی مارکیٹ تک اس نالے سے اب تک بہت تباہی مچائی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ پچھلے سال کے سیلاب میں لوگوں کی زمینیں سیلاب برد ہوگئی ہیں جبکہ رلو کے مکینوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر کئی بار ہجرت کرنا پڑی ہے۔ مقامی باشندہ حاجی احمد اللہ وانی نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ ایریگیشن اور فلڈ کنٹرول کی طرف سے اس سمت کوئی دھیان نہیں دیا جا رہا ہے اور لوگوں کو سیلاب کے رحم وکرم پر چھوڑا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں مقامی ممبر اسمبلی سے لیکر اعلی افسران تک حفاظتی بنڈ لگانے کی اپیل کی گئی لیکن ابھی تک اس طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنہ 2014 اور سنہ 2017 کے سیلابی ریلوں کے دوران رلو کے کئی رہائشیوں کو گھر بار چھوڑ کر وہاں سے ہجرت کرنا پڑی کیونکہ سیلاب کا پانی ان کے مکانوں سے ٹکرا رہا تھا اور مکانوں کی بیرونی دیواروں کو نقصان بھی پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رلو کی بستی کو بچانے کیلئے ایک بڑا منصوبہ درکار ہے اور تب جاکر اس بستی کے رہائشی مکانوں کو بچایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ قصبہ بانہال کی مارکیٹ بھی اس سیلابی نالے کی زد میں ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کئے گئے تو قصبہ بانہال کے ایک بڑے حصے کو بھی چنجلو نالے سے سخت خطرہ لاحق ہے۔ علاقہ رلو سے تعلق رکھنے والے یاسر علی ملک نامی باشندے نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کہ محکمہ ایریگیشن اینڈ فلڈ کنٹرول کی طرف سے اب تک ان کی ہر استدعا کو مسترد کیا گیا ہے اور اب تک رہائشی مکانوں اور دھان کی آراضی کو بچانے کیلئے کسی بھی قسم کے اقدامات نہیں کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ محکمہ فلڈ کنٹرول نے چند ایسی جگہوں پر حفاظتی بنڈ لگائے ہیں جہاں انکی کی کم ضرورت تھی جبکہ چنجلو نالے کے ایک طرف لوگوں کی آبی اراضی اور رہائشی مکانوں کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ فلڈ کنٹرول کی اس جانبداری سے لوگ تشویش میں مبتلا ہیں کیوںکہ کوئی بھی نیا سیلاب تباہی مچا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال کے سیلابی ریلوں کی وجہ سے مقامی زمینداروں کی درجنوں کنال اراضی سیلاب میں ڈھ گئی ہے اور غریب زمینداروں کو بھاری نقصانات سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ انہوں نے اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ چنجلو نالہ کے دونوں طرف حفاظتی بنڈ لگانے کو اولین ترجیح دیں تاکہ مقامی رہائشیوں اور زمینداروں کو کسی بڑے نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اس سلسلے میں محکمہ ایریگیشن اینڈ فلڈ کنٹرول رام بن کے ایک افسر نے بتایا کہ رقومات کی عدم دستیاب کی وجہ سے وہ لوگوں کی توقعات کو عملی جامہ نہیں پہنائے پائے ہیں تاہم اب سرکار کی طرف سے فنڈس واگذار کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چنجل±و نالہ کے دونوں طرف مرحلہ وار بنیادوں پر حفاظتی بنڈ لگائے جائینگے تاکہ رہائشی مکانوں اور لوگوں کی ملکیتی آراضی کو محفوظ بنایا جا سکے اور اس کیلئے ایک منصوبہ پہلے ہی اعلی حکام منظوری کیلئے بھیجا گیا ہے۔