نوشہرہ //نوشہرہ کو ضلع کادرجہ دینے اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی تعیناتی عمل میں لانے کی مانگ پر مقامی بازار ، سرکاری دفاتر اور بینک 5ویں روز بھی بند رہے جبکہ تحصیل صد ردفتر نوشہرہ میں مظاہرین کی طرف سے احتجاجی دھرنا بھی دیاگیا۔ واضح رہے کہ پانچ روز قبل بیوپار منڈل کی کال پر مقامی لوگوںنے ہڑتال شروع کی تھی جو مسلسل جاری ہے ۔ پانچویں روز بھی بازار مکمل طور پر بند رہا اور سرکاری دفاتر و بینک بھی نہیں کھلے جس کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کاسامنا کرناپڑا۔وہیں مظاہرین نے دھرنا دیا اور ریاستی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی ۔ مظاہرین کی مانگ تھی کہ نوشہرہ کو جلد سے جلد ضلع کا درجہ دیاجائے اور یہاں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی تعیناتی عمل میں لائی جائے ۔ سناتن دھرم سبھا کے صدر جگدیش ساہنی ، بھارت بھوشن گپتا، ایڈووکیٹ حق نواز چوہدری سمیت کئی لوگوںنے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ نوشہرہ کے ساتھ ہمیشہ سے ہی ناانصافی ہوئی ہے اور اب وہ اس سوتیلے سلوک کو برداشت نہیں کریںگے ۔ انہوںنے کہاکہ یہ احتجاج مانگ پوری ہونے تک جاری رہے گا ۔ان کاکہناتھاکہ نوشہرہ میں اے ڈی سی کی پوسٹ دینے کیلئے ان کے ساتھ کئی بار وعدے کئے گئے مگر ان کو اب تک ایفا نہیں کیاگیا ۔ انہوںنے کہاکہ نوشہرہ کے بجائے دیگر علاقوں کو یہ پوسٹ دی گئی ہے اور اس علاقے کے ساتھ ایک سازش کے تحت ناانصافی کی جارہی ہے ۔اس ہڑتال سے لوگوںنے سکولوں کو مستثنیٰ رکھاہواہے اور تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کام کررہے ہیں لیکن ہڑتال اور بند کی وجہ سے دیگر معمولات زندگی بری طرح سے متاثر ہوئے ہیں۔