تھنہ منڈی // محکمہ بجلی کی طرف سے بنیادی ڈھانچے کو مستحکم بنانے کے دعوئوں کی قلعی اس وقت کھل جاتی ہے جب تھنہ منڈی کے بیشتر علاقوں میں ترسیلی لائنوں پر نظر دوڑائی جائے جو سرسبز درختوںسے لٹک رہی ہیں اور محکمہ نے کھمبے تک فراہم نہیں کئے ۔ تھنہ منڈی کے لوہر الال، ڈھوک،درہ ،منگوٹہ ،قصبہ تھنہ منڈی کے وارڈنمبر 13 اور دیگر کچھ علاقوں میں آج بھی ترسیلی لائنوں کا یہ حال ہے کہ وہ درختوں کے ساتھ بندھی ہوئی ہیں ۔اگرچہ دیہی علاقوں میں ڈھانچے کو مستحکم بنانے کیلئے کئی سکیمیں چلائی جارہی ہیں مگر زمینی سطح پر حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔لوہر الال کے محمد شریف کاکہناہے کہ انکے محلہ میں آج بھی بجلی کی ترسیلی لائنیں سرسبز درختوں کے ساتھ آویزاں ہیں جو کسی بڑے خطرے کو بلاوادینے کے مترادف ہے ۔ان کاکہناتھاکہ محکمہ بجلی کے اہلکاروں کو کئی بار اس بارے میں بتایاگیالیکن وہ ایک کان سے بات سن کر دوسرے کان سے باہر کردیتے ہیں ۔ محمد رفیق ،محمد قاسم اور اشفاق احمد ساکنان تھنہ منڈی کا کہنا ہے کہ محکمہ بجلی کے اہلکار صرف بجلی کی ماہانہ فیس وصول کرناجانتے ہیں او انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں کہ بنیادی سطح پر ڈھانچے کا کیا حشر ہے ۔ اسسٹنٹ انجینئرسریش شرما کا اس حوالہ سے کہناہے کہ مرکزی سرکار کی معاونت سے ریاست میں سباگیا نامی سکیم چلائی جارہی ہے جس کے تحت ان علاقوں اور محلہ جات کی نشاندہی کی جارہی ہے جن میں بنیادی ڈھانچے کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوںنے کہاکہ پروجیکٹ رپورٹ مرتب کرکے اس پر کام شروع کیاجائے گا ۔ انہوںنے بتایاکہ اس سکیم کا آغاز گزشتہ برس دسمبر میں ہوا اور امید ہے کہ اس سکیم پر اپریل سے کام شروع ہوجائے گا۔