راجوری //ایسے وقت میں جب راجوری بازار میں پالی تھین کا خوب استعمال ہورہاہے ، میونسپل کمیٹی نے پچھلے تین سال میں صرف 58کلو گرام پالی تھین بیگ ضبط کئے ہیں ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ پالی تھین کا استعمال ماحولیات پر بری طرح سے اثرات مرتب کرتاہے اور اس پر سپریم کورٹ کی طرف سے پابندی عائد کی گئی ہے تاہم میونسپل کمیٹی راجوری کی توجہ اس جانب کم ہی جارہی ہے ۔ذرائع نے کشمیرعظمیٰ کو بتایاکہ میونسپل حکام پالی تھین پر روک لگانے میں ناکام ہوچکے ہیں جو ان کیلئے اہم کام تھا۔ذرائع نے بتایاکہ میونسپل کمیٹی کی کارکردگی کا اندازہ اس حقیقت سے لگایاجاسکتاہے کہ پچھلے تین سال میں صرف اٹھاون کلو گرام پالی تھین بیگ ضبط ہوئے ہیں ۔اس سلسلے میں میونسپل کمیٹی کے ایگزیکٹوافسر کے دفتر سے ڈائریکٹر اربن لوکل باڈیز جموں کو بھیجے گئے خط میں بتایاگیاہے کہ تین سال میں اٹھاون کلو گرام پالی تھین بیگ ضبط کئے گئے ہیں ۔یہ خط زیر نمبر MCR/2017/1138بتاریخ 23/12/2017کو جاری کیاگیاہے ۔اس میں یہ بھی بتایاگیاہے کہ پچھلے تین سال میں 13ہزار100روپے جرمانہ بھی عائد کیاگیاہے ۔تفصیلات فراہم کرتے ہوئے ذرائع نے بتایاکہ 2015-16کے دوران 23کلو گرام پالی تھین ضبط کئے گئے جبکہ 6500روپے جرمانہ عائد کیاگیا ۔اسی طرح سے سال 2016-17کے دوران 18کلو گرام پالی تھین بیگ ضبط ہوئے اور 4200روپے جرمانہ عائد کیاگیا جبکہ سال 2017-18میں 17کلو گرام پالی تھین بیگ کی ضبطی عمل میں آئی اور 2400روپے جرمانہ عائد کیاگیا ۔ذرائع کاکہناہے کہ ان حقائق سے یہ پتہ چلتاہے کہ میونسپل حکام پالی تھین کے استعمال کو روکنے کیلئے سنجیدہ نہیں اور یہی وجہ ہے کہ پالی تھین مخالف محدود پیمانے پر چلائی گئی ہے ۔میونسپل کمیٹی کے ایک افسر نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر یہ دعویٰ کرتے ہوئے بتایاکہ کارروائی کرکے ضبط کئے جانے والے لفافوں کو شام میں دکاندار واپس لے جاتے ہیں او ران کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ۔مقامی لوگوںکاکہناہے کہ میونسپل کمیٹی کی کارکردگی نہ کے برابر ہے ۔اس سلسلے میں بات کرتے ہوئئے ایس سی شرما، ناظم احمد اور محمد اقبال نے کہاکہ پالی تھین کے استعمال پر فوری روک لگانے کی ضرورت ہے لیکن میونسپلٹی حکام غفلت کی نیند سورہے ہیں ۔ان کاکہناہے کہ پالی تھین کو ہر دکان پر دستیاب دیکھاجاسکتاہے اور اس کا استعمال بھی کھلے عام ہورہاہے۔