بانہال // ریاستی سرکار کی طرف سے حال ہی میں تعینات کئے گئے انسپکٹر جرنل برائے ٹریفک پولیس بسنت کمار رتھ کے عملی کام کا اثر نہ صرف جموں سٹی میں دیکھا جارہا ہے بلکہ تین سو کلومیٹر لمبی جموں ۔سرینگر شاہراہ پر بھی ان کی موجودگی کے اثرات نمایاں طور ظاہر ہیں۔ محکمہ ٹریفک میں انکی تعیناتی کے بعد شاہراہ پر جواہر ٹنل کے آر پار غیر قانونی طریقے سے ڈرائیوروں سے رقومات لینے کیلئے قائم ایک درجن کے قریب انٹری پوسٹیں یا چلتے پھرتے ناکے بند ہو چکے ہیں اور سالوں سے اس مبینہ لوٹ کا نشانہ بننے والے ہزاروں ڈرائیور اس بدلتے منظر نامے سے خوش ہیں۔ ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ نگروٹہ ،جموں سے لیکر کھنہ بل ،کشمیر تک سالہا سال سے لوٹ کھسوٹ کرنے والے ٹریفک پولیس کے ناکے اب غائب ہیں اور ٹریفک اہلکار اب صرف شاہراہ پر ٹریفک جام اور معمول کا ٹریفک بحال کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ جموں سے تعلق رکھنے والے ایک ٹرک ڈرائیورامریک سنگھ نے کشمیر عظمی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں تب حیرانی ہوئی جب انہوں نے شاہراہ پر پہلے سے موجود مخصوص ٹریفک پوسٹس کو موجود نہیں پایا جو ڈرائیوروں کیلئے وبال جان بن چکی تھیں ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ٹرک اور دیگر مال بردار ڈرائیوروں کو سانبہ اور نگروٹہ سے لیکر کھنہ بل تک کم سے کم سات سے دس مقامات پر مبینہ طور ٹریفک اہلکاروں کو رقومات دینا پڑتی تھیں ، چاہئے کاغذی لوازمات پوری ہوں یا نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پچھلے 17 برسوں سے شاہراہ پر گاڑی چلا رہے ہیں لیکن انہوں نے آج تک اس طرح کا نظم و ضبط نہ جموں شہر کی سڑکوں پر اور نہ ہی جموں سرینگر شاہراہ پر کبھی دیکھا تھا جو بسنت رتھ کے آنے کے دو ہفتوں میں ہی دکھنے لگا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جہاں بسنت کمار رتھ کی تعیناتی کے بعد عام لوگوں ، ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹروں میں خوشی پائی جارہی ہے وہیں شاہراہ پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے گاڑی والوں اور ٹریفک اہلکاروں میں بھی بسنت رتھ اور ٹریفک محکمے کا خوف سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرائیور طبقہ نئے ٹریفک سربراہ سے خوش ہے اور اس کا برملا اظہار کر رہے ہیں۔ ایک بیرون ریاستی ڈرائیور راکیش کمار نے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سالوں سے ٹنل کے دونوں طرف شاہراہ پر رقومات دینا پڑ رہی تھیں اور سیبوں کے سیزن میں کمائی کا ایک بڑا حصہ غیر قانونی انٹری کے طورپر شاہراہ پر لوٹانا پڑتا تھا لیکن اب چند ہفتوں میں ہی واضح تبدیلی نظر آرہی ہے اور سابقہ لوٹ کھسوٹ کا منظر تبدیل ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بسنت رتھ کی تعیناتی کے بعد اب تک وہ دو بار پنجاب سے وادی کشمیر میں ٹرک لیکر آئے ہیں لیکن ٹنل کے دونوں طرف سڑک پر یہ غیر قانونی لوٹ کھسوٹ تھم سی گئی ہے اور ڈرائیوروں نے راحت کی سانس لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث ڈرائیوروں کے صرف چالان کئے جا رہے ہیں اور رقومات کا تقاضا کوئی اہلکار نہیں کر رہا ہے۔ انہوں نے انسپکٹر جرنل آف ٹریفک پولیس بسنت کمار رتھ سے اپیل کی ہے کہ وہ شاہراہ پر جواہر ٹنل کے ارپار صرف دو یا تین چیک پوسٹوں کو قائم کریں جہاں گاڑی والوں کے کاغذی دستاویزات اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث ڈرائیوروں کی جانچ پڑتال کی جاسکے۔