جموں // جموں کشمیر رہبر تعلیم ٹیچرز فورم نے اپنی بند پڑی تین ماہ کے زائد عرصے کی واجب الدا تنخو اہوں اور سرکاری وعدوں کے باوجود انہیں سٹریم لائن نہ کر نے پر تین مارچ کو ریاست گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔یہاں جاری ایک پریس بیان کے مطابق اس سلسلے میں فورم کے ریاستی باڈی کے دو الگ الگ اجلاس سرینگر اور جموں میں منعقد ہوئے جس میں فورم کے ریاستی اور ضلعی عہداران نے شرکت کی ۔سرینگر میں فورم کے ریاستی چیئر مین فاروق احمد تانترے جبکہ جموں میں فورم کے سینئر ریاستی نائب چیئرمین بھوپیندر سنگھ کی صدارت میں یہ اجلاس منعقد ہوئے ۔پریس بیان کے مطابق فورم لیڈران نے اس موقع پر متفقہ طور پر یہ فیصلہ لیا ہے کہ ریاست کے 65ہزار سے زائدرہبر تعلیم ٹیچرز میں تقریباً 41 ہزار کے قریب رہبر تعلیم اساتذہ گذشتہ تین ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں جبکہ سرکار کی طرف سے ایس ایس اے کی تنخوائیں سٹریم لائن کر نے کے وعدوں کو گذشتہ دو سال سے یقین دہانیوں کے باوجود عملی جامہ نہیں پہنایا جا رہا ہے اور نہ ہی ٹرانسفر پالیسی کو لاگو کیا جا رہا ہے اور اساتذہ کو سڑکوں پر آنے کے لئے مجبور کیا جا رہا ہے -فورم نے فیصلہ لیا ہے کہ وہ اپنے حقوق کی آواز کو بلند کر نے کے لئے تین مارچ کو گرمائی راجدھانی سرینگر پریس کلب اور سرمائی راجدھانی جموں کے پریس کلب میں احتجاج کریں گے اور سیول سیکریٹریٹ کی طرف مارچ کریں گے -فورم کے ریاستی چیرمین فاروق احمد تانترے نے اس سلسلے میں اپنے بیان میں کہا ہے کہ وزیر تعلیم اور ریاستی وزیر خزانہ نے انہیں کئی بار یہ یقین دہانی کرائی کہ ایس ایس اے ٹیچرز کی تنخوائیں ریاستی بجٹ سے ماہانہ بنیادوں پر ادا کی جائیں گی اور بعد میں یہ رقومات مرکزی سرکار سے وصول کی جاتی رہے گی ۔تانترے نے کہا کہ ہر بار سرکار ان کے ساتھ یہ جھوٹے وعدے کرتی آئی ہیں اور اساتذہ کو مالی طور پریشان کر کے انہیں ذہنی قوفت کا شکار بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ اساتذہ مالی تنگی کی وجہ سے طے حد پریشان ہیں اور نوبت بھوک مری تک کا پہنچی ہے۔انہوں نے کہا کہ رہبر تعلیم اساتذہ اپنے بال بچوں و گھر کی دیگر ضروریات کو پورا نہیں کر پا رہے ہیں جبکہ جن اساتذہ نے بنکوں سے قرضہ لیس ہے وہ وقت پر قسط ادا نہ کر نے کی وجہ سے اْنہیں سود در سود چڑھ رہا ہے جبکہ ان کے گرانٹر ز بھی پریشان ہیں۔تانترے نے مزید کہا کہ فورم نے یہ فیصلہ لیا ہے کہ وہ تین مارچ کو ریاست کے دونوں راجدھانیوں میں اپنا احتجاج درج کرائیں گے اور اگر سرکار اس کے باوجود بھی ان کے مطلبات کو پورا کر نے میں ناکام ہوتے ہیں تو وہ آگے کا لائحہ عمل طے کر کے سکول تالا بند ہڑتال پر چلے جائیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری مجودہ مخلوط سرکار پر عائد ہو گی ۔انہوں نے ریاست کے تمام رہبر تعلیم اساتذہ سے اپیل کی ہے کہ وہ 3مارچ کو سرینگر اور جموں کے پریس کلب میں صبح ساڑے دس بجے جمع ہو کر سیکریٹریٹ کی طرف پیش قدمی کر کے ریاستی سرکار کو اپنے مطلبات منوانے کو لیکر احتجاج میں شامل ہوں۔ نائب چیئرمین بھوپیندر سنگھ ، ریاستی جنرل سیکٹری جہانگیر عالم خان ،سٹیٹ سیکریٹری ظہور الدین بیگ اور صوبائی صدر جموں آفتاب ملک، سرینگر ارشاد راہی ، ترجمان محمد اقبال بٹ و دیگر فورم لیڈران نے بھی اساتذہ سے اپیل کی ہے کہ وہ تین مارچ کو بھاری اکثریت میں جموں اور سرینگر میں جمع ہو کر احتجاج میں شرکت کر کے اسے کامیاب بنائیں ۔