گول// گنڈی گگر سولہ علاقہ کے لوگوں کا ریلوے کمپنی گیمن کے خلاف احتجاجی مظاہرہ پیر کو مسلسل دوسرے روز بھی جاری رہا ۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ یہاں پر چند ٹھیکیدار باہر کے ٹھیکیداروں کے ساتھ کام کرتے ہیں جنہوں نے یہاں پر مقامی نوجوانوں کا راستہ ہی بندکر دیا ہے اور یہاں پر صرف اثر ورسوخ والوں کو ہی لگایا جا رہا ہے ۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ گیمن کمپنی باہر سے لوگوں کو لارہی ہے اور کل ہی سات لوگوں کو ریاسی سے لایا جبکہ یہاں کے مستحق لوگوں کو کام پر نہیں لگایا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چند لوگ ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے عام لوگوں کے حقوق پر شب و خون مارا جا رہا ہے احتجاجی مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہاں پر تین مہینے سے زیادہ عرصہ سے مقامی ڈرائیور ہر روز آتے ہیں اور انہوں نے یہاں پر تمام لوازمات پورے کئے ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں یہاں کام پر نہیں لگایا جا رہا ہے ۔ دو دن سے لوگوں نے سڑک کے بیچوں بیچ میں دھرنا دیا ہے اور کمپنی کا تمام کام ٹھپ کر دئے ہیں اور یہاں سے گاڑیوں کو آگے نہیں جانے دیا جاتا ہے جس وجہ سے کمپنی کو بھی کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق احتجاج کے دوران گیمون کمپنی نے اندر سے ہی اپنے ورکروں کو بھیجا جس وجہ سے یہاں پر حالات خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا ،تا ہم کئی لوگوں نے اس موقعہ پر اہم رول ادا کیا جس وجہ سے یہاں پر ایک بہت بڑا حادثہ ٹل کیا ۔ یہاں پر گیمون کمپنی کے ساتھ کام کر رہے ورکر کس وجہ سے آئے اور انہیں احتجاج پر بیٹھے لوگوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے کس نے بھیجا اس کے لئے گیمون کمپنی نے اپنا پلا جھاڑ ا اور اس کو اپنے سر نہیں لیا ۔وہیں اس دوران پولیس بھی موقعہ پر پہنچی اور انتظامیہ کے کچھ لوگ بھی پہنچے جنہوں نے چند لوگوں کو اپنے ساتھ سنگلدان لیا اور وہاں پر بات کرنے کو کہا ۔ وہیں اس تمام پس منظر میں کشمیر عظمیٰ نے جب گیمون کے منتظمین سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ دو روز سے چند لوگ احتجاج پر بیٹھے ہوئے ہیں تا ہم انہوں نے مقامی نوجوانوں کا بھر پور ساتھ دیا ہے اور کمپنی میں کام کے لئے بھرتی کیا ہے ۔’’ایس دتا سینئر منیجر سائٹ انچارج گیمون کمپنی نے کہا کہ دو روز سے ان چند لوگوں کا احتجاج ہے ان کا کہنا ہے کہ ہمیں کمپنی میں نہیں لگایا جا رہا ہے لیکن ایسا کچھ نہیں ہے یہ واحد کمپنی نے جس نے آتے ہی یہاں کے مقامی لوگوں کو بھرتی کیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پر یہ مشکل تھا ہمارے لئے کہ کس طرح سے مقامی نوجوانوں کو بھرتی کیا جائے اور ہم نے اس سلسلے میں گنڈی سے کینٹھہ موڑ تک 13ممبری کمیٹی تشکیل دی جس کے تحت ہی یہاں پر نوجوانوں کو بھرتی کیا گیا ۔ انہوںنے کہا کہ یہاں پر جو بھی ملازم لگایا گیا ہے وہ ان تیرہ ممبری کمیٹی کی جانب سے ہی لگایا گیا اور انہوں نے ہی ایک فہرست کمپنی کو دی دستاویذات کے ساتھ ۔ایس دتاکا کہنا ہے کہ یہاں پر پہلے ہی گنڈی کے لوگوں کو نہیں لگایا اور ہم نے49لوگوں کو گنڈی کے لگائے ہیں ۔ داڑم سے35گول تحصیل سے 60نوجوانوں کو لگایا ہے ۔ ایس دتا نے کہاکہ136نوجوان جو مقامی ہیں کمپنی نے انہیں بھرتی کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کے ساتھ بھی بات کی جائے گی ۔ادھر کینٹھ کے مقام پر بھی کچھ دیر کے لئے خواتین نے راستہ کو مسدود کر رکھا تھا اور یہاں پر احتجاجی خواتین کا کہنا ہے کہ ان کے بیروزگار نوجوانوں کے ساتھ کمپنی مذاق کرتی ہے اور انہیں بھرتی نہیں کیا جاتا ہے جبکہ ان کی اراضی کو ریلوے سے کافی نقصان پہنچا ہے ۔ اس دوران یہاں پر پولیس آئی اور خواتین کو یہاں سے ہٹایا اور آمد و رفت کو بحال کر دیا۔