ڈوڈہ//آج سے پانچ برس قبل منظور شُدہ زچہ بچہ ہسپتال اور نرسنگ کالج کی ڈوڈہ میں تعمیر پر بلا ضرورت تاخیر پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ڈوڈہ ڈیویلپمنٹ فرنٹ کے صدر اشتیاق احمد دیو نے کہا ہے کہ ان دونوں اداروں کے لئے رقومات بھی منظور ہوئے ہیں مگر نامعلوم وجوہات کی بنا پر تاخیر ہورہی ہے۔ فرنٹ صدر نے مزید کہا کہ نرسنگ کالج کے لئے اراضی موجود ہے اور زچہ بچہ ہسپتال کے لئے قدیم ضلع ہسپتال کی عمارت موجود ہے جس کو محکمہ JKPCCنے بتاہ و برباد کردیا ہے اور سرکاری و عوامی خزانہ کی لوٹ کھسوٹ کررہا ہے جو ناقابل برداشت ہے جبکہ نرسنگ کالج کی عدم موجودگی سے ہمارے بچوں کو لاکھوں کروڑوں روپیہ خرچ کرکے بیرونی ریاست جانا پڑتا ہے پریس کے نام جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے مرکزی سرکار نے شعبہ صحت کے حوالے سے جن تین اداروں میڈیکل کالج ڈوڈہ، نرسنگ کالج ڈوڈہ ، زچہ بچہ ہسپتال ڈوڈہ کو نہ صرف منظوری دی تھی بلکہ رقومات بھی واگزار کی تھی مگر بدقسمتی سے تین برس مکمل ہونے کے باوجود بھی ان اداروں کا کام شروع نہ کرنا کسی مجرمانہ سازش کا حصہ ہے جس سے عوامی حلقوں میں تشویش ہے اور لوگ وزیر صحت سے سخت ناراض ہیں اور لوگوں کے اذہان میں کئی خدشات اور سوالات بھی ہیں جن کا حکومت کو جواب دینا ہوگا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ضلع ہسپتال کی آراضی پر ناجائز تجاوزات کو ختم کیا جائے اور ضلع ہسپتال ڈوڈہ جو کہ نجی گاڑیوں کی پارکنگ کا گڑھ بنا ہے وبار نجی گاڑیوں کی پارکنگ پر مکمل پابندی عائد کی جائے کیونکہ یہ آراضی زمین مالکان سے کوڑیوں کے نرخوں پر خریدی گئی ہے اور اس پر لوگوں نے ناجائز تجاوزات کرکے قومی سرمایہ کی لوٹ کھسوٹ کی ہے اور حکومت کو بار بار توجہ دلانے کے باوجود حکومت کی خاموشی معنی خیز ہے۔