نوشہرہ //نوشہرہ بند کو بیس روز مکمل ہوگئے اور بیسویں روز بھی لوگوںنے ضلع درجہ کی مانگ پر ہڑتال کی اور حکومت مخالف احتجاج کیاگیا ۔اس دوران لوگوںنے ایک احتجاجی ریلی بھی نکالی اورحکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی ۔ واضح رہے کہ نوشہرہ کو ضلع کادرجہ دینے کی مانگ پر بیوپار منڈل نوشہرہ کی کال پر گزشتہ بیس دنوںسے ہڑتال کی جارہی ہے ۔بدھ کے روز بڑی تعداد میں لوگ پٹیل چوک میں جمع ہوئے اورانہوںنے ایک احتجاجی ریلی نکالی جو تحصیل صدر مقام پہنچی ۔ اس دوران مظاہرین نے حکومت کو انتباہ دیاکہ اگر د س مارچ تک ان کی مانگ پوری نہ ہوئی توسنگین نتائج کاسامنا کرناپڑے گا۔ انہوںنے کہاکہ نوشہرہ کو ضلع کادرجہ دیاجائے جو ان کی جائز مانگ ہے ۔ دریں اثناءتیسرے روز بھی کچھ لوگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے رہے ۔وہیں تریاٹھ کے لوگوںنے بھی نوشہرہ ، سندر بنی اور کالاکوٹ کیلئے ضلع درجہ کی مانگ کرتے ہوئے ہڑتال کی جس دوران تجارتی مراکز بھی بند رہے ۔ مقامی لوگوںکی طرف سے ایک احتجاجی ریلی بھی نکالی گئی جو بازار سے ہوتے ہوئے واپس اختتام پذیر ہوئی ۔ مظاہرین نے کہاکہ نئے ضلع کے صدر دفتر کیلئے سیوٹ سب سے مناسب ترین جگہ ہے اور یہی مرکزی مقام بھی ہے ۔انہوںنے کہاکہ سیوٹ میں ضلع صدر مقام قائم کرکے دیگر مقامات پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے دفاتر بنائے جائیں ۔انہوں نے الزام عائد کیاکہ حکومت نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کررکھی ہے ۔