ڈوڈہ//اپنے مطالبات کے حق میں اور محکمہ آب رسانی میں کام کرنے والے آئی ٹی آئی تربیت یافتہ ورکرس کے مسائل اور مطالبات کے حوالہ سے حکومت کی عدم دلچسپی اور غیر سنجیدہ پن کے خلاف آل جموں وکشمیر پی ایچ ای آئی ٹی آئی تربیت یافتہ ورکرس ایسوسی ایشن چناب ویلی یونٹ کی طرف سے ایس سی محکمہ پی ایچ ای ڈوڈہ کے دفتر کے احاطہ زورداراحتجاج کیا۔مظاہرین نے حکومت پر عارضی ملازمین کے ساتھ سوتیلا سلوک روا رکھنے کا الزام عائد کیا اور نعرے بازی کی۔مظاہرین نے چار گھنٹہ تک مسلسل احتجاج کیا اور ایک ریلی کی شکل میں ضلع ترقیاتی کمشنر ڈوڈہ کے دفتر کے سامنے پہنچے اور وہاں پر نعرہ بازی کی اور اپنے مطالبات پر مشتمل ایک میمورینڈم ضلع ترقیاتی کمشنر کو پیش کیا۔اس موقع پر ایسوسی ایشن کے ریاستی جنرل سیکرٹری سجاد احمد نے کہا کہ سرکار جان بوجھ کر ہمارے ساتھ سوتیلا سلوک کر رہی ہے بدیں وجہ ہمارے بچّوں کا مستقبل تاریکی کی طرف گامزان ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ آٹھ ماہ سے آئی ٹی آئی تربیت یافتہ ورکرس کو تنخواہ سے محروم رکھا گیا ہے اور کام اِن سے پورا لیا جاتا ہے لیکن نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر استحصال کیا جا رہا ہے۔اْنہوں نے ایس۔آر۔او 520 کو جلد از جلد عمل میں لانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بغیر کسی تاخیر مستقل پالیسی کو عمل میں لایا جائے تاکہ عارضی ملازمین کو مزید متاثر نہ ہونا پڑے۔سجاد نے مزید بتایا کہ اگر ہمارے مطالبات کو پورا نہ کیا گیا تو تمام صحت عامہ کے عارضی ملازمین کام چھوڑ ہڑتال پر جائیں گے اور پانی سپلائی کو بھی بند کر دیا جائے گا اور بعد میں پیدا شدہ صورت حال کے لئے حکومت خود ذمہ دار ہو گی۔احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ضلع صدر رومیش کمار اور اشتیاق احمد نے بتایا کہ گیارہ برس کے دوران پہلی مرتبہ آٹھ ماہ کی تنخواہ کو روک کر رکھا گیا ہے اْنہوں نے ایس۔آر۔او 520 میں ترمیم کرکے یکم جنوری 2018 سے لاگؤ کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور ساتھ ہی دیگر تمام مراعات کو بھی شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا کہ دیگر ملازمین کی طرح ہی ہمارے ساتھ سلوک کیا جائے۔سرکار نے کابینہ میں نو نومبر 2005 کو تحت آڈر نمبر 239/f ہماری تعیناتی عمل میں لائی تھی مگر تاحال مستقل نہ کیا گیا ہے جو سراسر غریب عارضی ملازمین کے ساتھ ناانصافی ہے اس لئے سرکار جلد از جلد ہمارے تمام مطالبات مسائل کا ازالہ کرے بصورت دیگر ریاست گیر کام چھوڑ ہڑتال سے عوام کو بھی متاثر ہونا پڑے گا۔اس موقع پر بھارت بھوشن ،اشفاق احمد ،راجیش کمار ،یوسف تانترے نے بھی خطاب کیا۔