بانہال // ضلع رام بن کے دور دراز پہاڑی علاقہ گنوت کے لوگوں نے محکمہ دیہی ترقیات رام بن پر سرکاری سکیموں اور فنڈس کا غلط استعمال کرنے کا الزامات لگاتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ دیہی ترقیات کے چند ملازمین عوام کے فائدے کے بجائے تعمیر و ترقی کے کام مبینہ طور اثر و رسوخ اورملی بھگت کی وجہ سے ان علاقوں میں کر رہے ہیں جہاں ان کاموں کی ضرورت کم ہے یا ہے ہی نہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ محکمہ کی طرف سے وارڈ نمبر چھ میں پانی کی دو باولیاں بنائی جا رہی ہیں جبکہ وہاں پہلے ہی پانی کی باولی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ باولیاں گنوت کے وارڈ نمبر سات میں تعمیر کرنے کیلئے لوگوں نے مانگ کی تھی لیکن عوامی مانگ اور محکمہ کے افسروں کی طرف سے وارڈ نمبر سات کے مجوزہ مقام پر دورہ کرنے کے باوجود بھی یہ باولی وارڈ نمبر چھ میں ملازمین کی من مرضی سے بنائی جارہی ہیں اور اس کے خلاف وارڈ نمبر سات گنوت کے لوگوں میں غم وغصہ پایا جارہا ہے۔ گنوت کے لوگوں کا کہنا ہے کہ محکمہ دیہی ترقیات کے ملازمین ایک سو کے قریب کنبوں کو نظرانداز کرکے ان باولیوں کو وہاں تعمیر کرنا چاہتے ہیں جہاں سے انہیں مبینہ طور کمیشن ملنے کی امید ہے۔ انہوں نے کہا کہ گنوت کے اس دور افتادہ علاقے میں تعینات محکمہ دیہی ترقی کے فیلڈ سٹاف ، محکمہ کے افسروں اور عوام کے درمیان بڑی خلیج پائی جارہی ہے جس کا فائدہ محکمہ کا فیلڈ سٹاف من مرضی کا مظاہرہ کرکے اٹھا رہے ہیں اور عوام کے نام کے کام من مرضی سے خاص لوگوں کو بانٹ دیئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ محکمہ دیہی ترقیات کے جونیئر انجینئر اور دیگر افسران اس علاقے کا سال دو سال میں کبھی کبھار ہی چکر لگاتے ہیں اور سرکاری رقومات کی مبینہ لوٹ کھسوٹ کی ذمہ داری یہاں تعینات فیلڈ سٹاف کے ذمہ رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وارڈ نمبر چھ میں پانی کی باولی تعمیر کرنے سے نہ صرف ایک سو کے قریب کنبوں کو بلکہ سیکڑوں انسانوں کیساتھ ساتھ مال مویشیوں کو بھی پینے کا پانی ملے گا لیکن اس باولی کو وہاں تعمیر کیا جارہا ہے جہاں پہلے ہی باولی بنائی گئی ہے اور وہاں اس کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا اس معاملے کو اسسٹنٹ کمشنر ترقیات اور بلاک ڈیولپمنٹ افسر رام بن کی نوٹس میں لایا گیا لیکن ان کی طرف سے اب تک کوئی مداخلت یا کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے محکمہ کے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ دیہی ترقیات کے کاموں کی بندرباٹ کے بجائے انہیں مستحق اور ضروری افراد اور علاقوں میں تعمیر کریں تاکہ سرکاری سکیمیں سے مبینہ خاص لوگوں کے بجائے عام لوگوں کو فائدہ پہنچ سکے ۔