پونچھ+منجاکوٹ// ریاست جموں و کشمیر کے دوسرے اضلاع کی طرح پونچھ اور راجوری میں بھی آل جموں و کشمیر پٹوار ایسوسی ایشن کی کال پر پٹواریوں نے اپنے مطالبات پرپچھلے گیارہ روز سے ہڑتال جاری رکھی ہوئی ہے جس کی وجہ سے عام لوگوں کے کام کاج بری طرح سے متاثرہورہے ہیں اور انہیں خالی ہاتھ لوٹ کر واپس جاناپڑتاہے۔ پٹواریوں کی تنظیم کے تحصیل صدر حویلی سلمان علی میر نے کہا کہ حکومت نے ان کے جائز مطالبات کو تسلیم کیا ہے لیکن اب عمل درآمد نہیں کیاجارہا۔انہوں نے کہا کہ نئے پٹواریوں کی گریڈ تفاوت، پٹواریوں اور گرداوروں کی ترقی، نئے پٹوار حلقوں اور گرداور سرکلوں کا قیام، پٹوار خانوں کی تعمیر، نجی عمارتوں میں قائم پٹوار خانوں کیلئے کرایہ کی منظوری، نائب تحصیلدار کی براہ راست بھرتی پر پابندی، پٹواریوں اور گرداوروں کے مشاہرے میں اضافہ اور شہر جموں اور سرینگر میں پٹوار ایسوسی ایشن کیلئے کنونشن سنٹروں کا قیام عمل میں لایا جائے۔انہوںنے کہاکہ مطالبات پورے ہونے تک کام چھوڑ ہڑتال جاری رہے گی ۔پٹواریوں کی اس ہڑتال کی وجہ سے عام لوگوں کو مشکلات کاسامناہے اور ان کے روز مرہ کے کام نہیں ہورہے ۔عام لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹواری سرکاری مشینری کا ایک اہم جز ہیں اورحکومت کو ان کے ساتھ بات چیت کرکے معاملات حل کرنے چاہئیں تاکہ کام متاثر نہ ہونے پائے ۔ضلع کے دوسرے تحصیل صدر مقامات پر بھی پٹواریوں کی طرف سے ہڑتال کی جارہی ہے ۔ وہیں راجوری ضلع میں بھی بدستور پٹواری ہڑتال پر ہیں۔تحصیل منجاکوٹ میں ان کا دھرنا لگاتار جاری ہے جس کو گیارہ دن ہوگئے ہیں۔منجاکوٹ میں دھرنے پر بیٹھے پٹواریوں کاکہناہے کہ ان کے مطالبات جلد سے جلد پورے کئے جائیں نہیں تو بڑے پیمانے پر احتجا ج ہوگا جس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔