مینڈھر//پانی کی ہاہا کارکے بیچ محکمہ پی ایچ ای کے ملازم کو پانی غیر قانونی طور پر فروخت کرنے اور جھوٹ بولنے کے الزام میں حراست میں لیاگیاجس پر اس کے ساتھی ملازمین نے احتجاجی دھرنادیا ۔وہیں لوگوںنے اس واقعہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ایسے ملازمین و افسران کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے جنہوںنے پانی کا غیر قانونی دھندا شروع کررکھاہے جبکہ مقامی آبادی بوند بوند کو ترس رہی ہے ۔مینڈھر کے لوگوںنے ایس ڈی ایم تنویر احمد خان سے شکایت کی کہ محکمہ پی ایچ ای کے ملازمین پمپنگ سٹیشن سے پانی فروخت کر رہے ہیں جس پر موصوف نے ایس ڈی پی او مینڈھر ریاض تانترے کے ہمراہ پمپنگ سٹیشن پر چھاپہ مار اجہاں ایک نجی ٹریکٹر ٹرالی کو موقعہ پر پانی بھرتے ہوئے پایاگیا۔اس دوران ڈیوٹی پر تعینات ملازمین نے کہا کہ وہ ٹرالی میں پانی محکمہ کے افسران کی ہدایت پر بھررہے ہیںجس کے بعدجب متعلقہ افسر سے دریافت کیاگیاتواس نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ڈیوٹی پر تعینات ملازم کو ہی پتہ ہو گا اور انہوںنے گاڑی میں پانی بھرنے کی کوئی ہدایت نہیں دی ۔اس دوران ڈیوٹی پر تعینات ملازمین کو جھوٹ بولنے پر ایس ڈی پی او مینڈھر نے پکڑ کر پولیس تھانہ مینڈھر پہنچایا اوران سے پوچھ تاچھ کی گئی تاہم ان کے ساتھیوں نے مینڈھر جموں شاہراہ بند کرکے انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا۔احتجاج کرنے والے ملازمین کی جب کسی نے نہ سنی تو وہ ایس ڈی ایم مینڈھر کے کہنے پر ان کے دفتر پہنچے۔اس موقعہ پر ایس ڈی ایم نے کہا کہ وہ ایمانداری سے اپنی ڈیوٹی انجا م دیں تاکہ لوگوں کو مشکلات کاسامنا نہ کرناپڑے ۔ان کا کہنا تھا کہ جہاںپر پانی موجود ہے،وہاں لوگوں کواس کی سپلائی ہونی چاہئے ۔انہوںنے کہاکہ نجی گاڑیوں کو پمپنگ سٹیشن سے پانی نہ دیاجائے کیونکہ لوگ پانی کے لئے ترس رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ مزید گاڑیوں کا بندو بست کرنے والے ہیں تاکہ لوگوں کو ماہ رمضان میں پانی کی سپلائی کی جا سکے ۔اس دوران ایس ڈی پی او مینڈھر بھی ایس ڈی ایم مینڈھر کے دفتر پہنچے اور پی ایچ ای ملازمین کی یقین دہانی پر حراست میں لئے گئے ملازم کو گھر بھیج دیا۔دریں اثناء مقامی لوگوںنے ایس ڈی ایم دفتر پہنچ کر محکمہ پی ایچ ای کے ملازمین کو تنقید کا نشانہ بنایااورکہا کہ یہ لوگ اپنی دکانیں بھی چلاتے ہیں جبکہ کئی ملازمین ٹاٹا سومو گاڑیاں بھی چلاتے ہیں اور اپنی ڈیوٹی کی انہیں کوئی پرواہ نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مینڈھر قصبہ میںبڑی تعداد میں نجی گاڑیاںپانی بھر کر لے جاتی ہیں اور انہیں ایک بوند بھی نہیں ملتی ۔انہوںنے الزام لگایاکہ محکمہ کے ملازمین پانی غیر قانونی طور پر فروخت کررہے ہیںجن کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جانی چاہئے۔