بانہال // رمضان کا مبارک مہینہ شروع ہوتے ہی ریاست بھر میں انتظامیہ کی طرف سے مارکیٹ چیکنگ کا چلن دہائیوں سے چل رہا ہے اور ضروری اشیا ء کی قیمتوں کیلئے نئے نرخ نامے بھی جاری کئے جاتے ہیں تاکہ مسلمانوں کے اس اہم مہینے میں نرخوں کو قابو میں رکھا جائے لیکن زمینی سطح پرسرکار کی طرف سے ماہ مبارک کے دوران قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے کیلئے کوئی بھی کوشش وادی چناب میں باراور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔لوٹ کھسوٹ کرنے والے تاجراور دکاندار عام گراہکوں کو دو دو ہاتھوں سے آضافی قیمتوں کے ساتھ لوٹ رہے ہیں۔ ضلع رام بن کی مارکیٹوں میں قیمتوں کو قابو میں رکھنے کیلئے ڈپٹی کمشنر را بن کی طرف سے قائم کئے گئے بیشترچیکنگ سکارڈ زمینی سطح پر غائب ہیں اور چند ایک کاروائیوں کو چھوڑ کر یہ مارکیٹ چیکنگ سکارڈ سرکاری قیمتوں کو زمینی سطح پر عملانے اور گراں فروشوں کے خلاف کوئی کاروائی کرنے میں ابھی تک ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ رمضان کے اوائیل میں قیمتوں کو مقرر کرنے اور اعتدال میں رکھنے کیلئے جموں میں افسران کی ایک اعلی سطحی میٹنگ کے بعد صوبہ جموں کے دیگر علاقوں کی طرح وادی چناب اور ضلع رام بن کیلئے بھی گوشت ، مرغ ، دودھ ، دہی اور پنیر وغیرہ کے تازہ نرخ نامے جاری کئے گئے ہیں جبکہ پھلوں ، سبزیوں اور کھجور وغیرہ کی قیمتوں کیلئے کوئی نرخ نامہ جاری ہی نہیں کیا گیاہے او ر وہ بلا ریٹ جانے لوگوں کو مرضی مرضٰ قیمت لے رہے ہیں ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ رمضان کے مہینے میں سالہاسال کی طرح اس سال بھی جم کر ہونے والی خریداری کے باوجود بھی قیمتوں میں ہمیشہ کی طرح اضافہ ہی دیکھنے کو ملا ہے اور اس کیلئے کئے جانیو الے تمام سرکار دعوے ، میٹنگیں اور بیانات رسمی رہ گئے ہیں ۔ ضلع رام بن سے گذرنے والی جموں سرینگر شاہراہ پر اور اس کے پہاڑی علاقوں میں قائم درجنوں مارکیٹوں میں مقرر کی گئی ۔قیمتوں اور دکانداروں کی طرف سے وصول کی جانے والی قیمتیوں میں زمین آسمان کا تضاد پایا جارہا ہے اور غیر رمضان میں لی جانے والی قیمتیں رمضان کے متبرک مہینے میں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ رام بن ضلع کے بانہال، کھڑی مہو منگت ،رامسو، نیل ، اْکڑال پوگل پرستان ، رام بن چندرکوٹ ، گول سنگلدان ، بٹوٹ ، سناسر اور راجگڑھ کی درجنوں مارکیٹوں میں اضافی قیمتوں کے ساتھ روزمرہ کی ضروری چیزوں کی فروخت نے عام غریبوں کیلئے مسائیل پیدا کئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ رمضان کیلئے سبزیوں ، پھلوں ،سبز کھجوروں کی قیمتیں جہاں واضع نہیں ہیں وہیں شاہراہ پر اباد قصبوں کو چھوڑ کر مرغوں کی قیمتیں مختلف مارکیٹوں میں اضافی قیمتوں کے ساتھ فروخت کی جارہی ہیں ، جبکہ گوشت بھی مقرر قیمت سے زیادہ قیمت پر بیچا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان کے دوران معمول کی طرح اس سال بھی پھل سبزی ، کھجور، گوشت مرغ دودھ دہی اونچے دام فروخت کی جارہی ہے اور یہ چیزیں عام غریبوں کی رسائی سے باہرہوکر رہ گئی ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کی طرف سے جاری کئے گئے نرخ ناموں کو زمینی سطح پر عملانے کیلئے کوئی بھی سنجیدہ کارروائی نہیں کی جا رہی ہے۔ ان چیکنگ سکارڈوں میں متعلقہ تحصیلداروں ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر امور صارفین رام بن ، ضلع فوڈ سیفٹی افسر رام بن ، متعلقہ ایس ایچ اوز ، متعلقہ تحصیل سپلائز افسران اور میونسپل کمیٹی کے افسران شامل ہیں اور اس کیلئے ضلع ترقیاتی کمشنررام بن جو ضلع مجسٹریٹ بھی ہیں نے ایک حکمنامہ 21 مئی کو قیمتوں کے ساتھ جاری کیا ہے۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ ریٹ لسٹ بھی سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی جس کا عام دکانداروں اور لوگوں کو کوئی سرو کار ہی نہیں جب تک نہ زمینی سطح پر گراں فروش ناعاقبت اندیش تاجروں کے خلاف قانونی کاروائی نہ کی جائے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ سبزی ، پھل اور پیکٹ بند غیر معیاری سبز کجھوروں کی قیمتیں بھی من مرض سے لی جارہی ہیں اور اس کیلئے نہ کوئی نرخ نامہ جاری کیا گیا ہے اور ناہی انتظامیہ کی طرف سے ایسے گراں فروشوں دکناداروں کی نکیل کسنے کیلئے کوئی موثر کاروائی کی جارہی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ سرکاری طور پر ضلع رام بن کیلئے گوشت کی قیمت 355 روپئے مقرر کی گئی ہے جبکہ گوشت چار سو روپئے فی کلو گرام کے حساب سے فروخت کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ملاوٹی دودھ اوردہی چالیس کے بجائے پچاس روپئے میں فروخت کیا جارہا ہے جبکہ ضلع رام بن کی مختلف مارکیٹوں میں مرغوں ، پھلوں اور سبزیوں کی قیمتیں بھی اضافے کے ساتھ مختلف ہیں اور دکاندار اپنی مرضی سے روز مرہ کے ضروری سامان کو اونچے دام فروخت کر رہے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ مارکیٹوں میں قیمتوں میں پائی جانے والی فرق اور متعلقہ محکموں کی طرف سے چیک نہ ہونے کی وجہ سے گراہکوں اور دکانداروں میں تلخ کلامی اور لعن طعن کے معاملات عام بات ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پھل اور سبزیوں کے ہول سیلر اور ریٹیلر اس کیلئے ذمہ دار ہیں اور ان کی قیمتوں کو جانچنے پرکھنے اور قیمتیں اعتدال پر رکھنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں اور ضلع رام بن کے شہر و گام سے اضافی قیمتوں کے بول بالے کی خبریں برابر مل رہی ہیں۔ اس سلسلے میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر امور صارفین وعوامی تقسیم کاری ضلع رام بن غلام رسول نے چند روز پہلے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ضلع ترقیاتی کمشنررام بن کی طرف سے جو سرکاری نرخ نامے جاری کئے گئے ہیں انہیں عملانے کیلئے ضلع انتظامیہ رام بن نے متعلقہ تحصیلداروں ، تحصیل سپلائز افسروں اور میونسپلٹی حکام پر مشتمل سکارڈ تشکیل دیئے ہیں اور انہیں جاری کئے گئے نرخ ناموں کو زمینی سطح پر لاگو کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ ایسا نہیں کر رہے ہیں تو اْن کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گی اوراس کیلئے قائم سکارڈوں میں شامل اہلکارزمینی سطح پر قیمتوں کو عملانے کی ناکامی کے ذمہ دار ہیں۔ ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ امور صارفین رام بن کی طرف سے دیئے گئے اس بیان کے تین روز بعد جمعرات کو بھی ضلع رام بن کی مارکیٹوں میں قیمتوں کے کنٹرول کے بارے میں کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔