راجوری//سکولی تعلیم، حج و اوقاف اور قبائلی امور کے وزیر چودھری ذوالفقار علی نے کہا ہے کہ حکومت ریاست کے تمام تعلیمی اداروں کا تفصیلی آڈِٹ کرے گی تاکہ ان اداروں میں بنیادی ڈھانچے اور افرادی قوت کی ضروریات کے بارے میں معلومات حاصل ہوں ۔انہوں نے کہاکہ آڈِٹ رپورٹوں کی بنیاد پر ایک پالیسی تشکیل دی جائے گی جس کے نتیجے میں سکولوں میں بنیادی ڈھانچے سے متعلق مسائل کو حل کیا جائے گا۔وزیر موصوف نے کہاکہ شعبہ تعلیم میں بہتری لانے کیلئے کئی پہل زیر غور ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ٹرانسفرکے عمل میں معقولیت لائی جائے گی تاکہ ہر ایک کو شہری اور دیہی علاقوں دونوں میں ڈیوٹی کرنے کا موقعہ مل سکے ۔وزیر موصوف راجوری کے ڈاک بنگلے کے کانفرنس ہال میں ایک عوامی میٹنگ سے خطاب کررہے تھے۔اس موقعہ پر انہوں نے لوگوں کو درپیش مسائل اور مطالبات کی جانکاری حاصل کی۔لوگوں کے مطالبات میں ایم جی نریگا کے تحت مشاہروں کی ادائیگی ، سڑکوں کی اَپ گریڈیشن ، پینے کے پانی کی قلت،بجلی نظام میں استحکام بخشنے ، طبی و تعلیمی اداروں کی عمارتوں پر جاری کام میں سرعت لانے شامل تھے۔وزیر نے کہا کہ موجودہ حکومت کا بنیادی مقصد بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرتے ہوئے انہیں مستقبل کے اہم شہری بنانا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہر ضلع میں اکلاویہ ماڈل سکول اور سرحدی اور پہاڑی اضلاع میں یونیورسٹی کیمپسز قائم کئے جارہے ہیں۔ بعدازآں ذوالفقار نے اپنے حلقہ انتخاب درہال میں چل رہے تعمیراتی کاموں کا جائزہ لیا ۔ اس دوران انہوںنے پتلی قلعہ ایکوپارک ، کوٹرنکہ پارک ، انس آبپاشی نہر، راجوری ۔کوٹرنکہ۔خواس سڑک ،آئی ٹی آئی کوٹرنکہ وغیرہ کاجائزہ لیا اور افسران کو ہدایت دی کہ وہ سبھی کاموں کو مقررہ مدت میں مکمل کریں ۔اس موقعہ پر ڈپٹی کمشنر راجوری ڈاکٹر شاہد اقبال چوہدری ، ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن آر کے سنگرال ، اے ڈی سی کوٹرنکہ شفیق احمد ،ایس ایس پی یوگل منہاس ، سپیشل افسر اوقاف اسلامیہ را ج محمد ، سی ای او محکمہ سیاحت ڈاکٹر طاہر فردوس ، اے سی ڈی اختر حسین قاضی ، ایس ای پی ایچ ای و فلڈ اریگیشن رفیق خان،ایس ای تعمیرات عامہ ماجد خان ، ایگزیکٹو انجینئران مشتاق رینہ ، منشی خان اور زبیر احمد بھی موجو دتھے ۔دریں اثناء وزیر موصوف سے رہبر تعلیم ٹیچر فیڈریشن کے ایک وفد نے ملاقات کرکے ایس ایس اے کے تحت تعینات اساتذہ کی تنخواہیں واگزار کرنے کی اپیل کی جس پر وزیر نے یقین دلایاکہ حکومت جائز مطالبات پورے کرنے کیلئے ایک پالیسی بنارہی ہے۔