مینڈھر //ریاستی حکومت مغل شاہراہ کو قومی شاہراہ کا درجہ دے کر اس پر ٹنل تعمیر کرنے کے خواب دکھارہی ہے لیکن سڑک کاچندی مڑھ سے لیکرپیر گلی تک 35کلو میٹر کا حصہ اس قدر تباہ ہوچکاہے کہ ایک گھنٹہ کا سفر ڈھائی گھنٹے سے قبل طے نہیںہوتا۔سڑک کے ا س حصے میں مرمت کاکوئی کام نہیں کیاگیا اور نہ ہی دیکھ ریکھ کی جارہی ہے ۔روڈ پر سفر کرنے والے مسافروں کاکہناہے کہ حکام کی عدم توجہی کے باعث یہ روڈ تباہ ہوتی جارہی ہے اور بہت جلد اس کا نام و نشان ہی مٹ جائے گا۔ ان کاکہناہے کہ مغل شاہراہ پر کہیں بھی رکنے کیلئے کوئی جگہ نہیں اور اگر کسی کی گاڑی ہی خراب ہوجائے تو نہ اسے رہنے کیلئے کہیں جگہ ملے گی اور نہ ہی کھانے پینے کو کچھ ملے گا۔جس قدر روڈ کی حالت خراب ہے اسی قدر مشہور سیاحتی مقام پیرگلی کا حال بھی ہے جہاں سیاحوں کیلئے کسی قسم کی کوئی سہولت دستیاب نہیں رکھی گئی جس کے نتیجہ میںلوگوں کو مشکلات کاسامناکرناپڑتاہے ۔ مینڈھر سے آئے ایک سیاح نے بتایاکہ گرمیوں کے موسم میں ان کی پہلی ترجیح پیر گلی ہوتی ہے تاہم اس جگہ کوئی سہولت ہی دستیاب نہیں۔ان کاکہناہے کہ حکام کی طرف سے تو کوئی سہولت نہیں رکھی گئی لیکن کچھ لوگوںنے ریڑھیاںلگاکر لوٹ کھسوٹ مچارکھی ہے ۔انہوںنے بتایاکہ جب انہوںنے کیلے کاریٹ پوچھاتو پتہ چلاکہ ایک درجن کیلے اسی روپے میں فروخت کئے جارہے ہیں۔سیاحوں کاکہناہے کہ پیر گلی میں شیڈ وغیرہ تعمیر کئے جاسکتے ہیں لیکن حکومت کی طرف سے کوئی توجہ نہیں دی جارہی اور یہ علاقہ دن کو آباد تو رات کو ویران ہوجاتاہے۔خطہ پیر پنچال کے لوگوں کاکہناہے کہ حکومت اس روڈ کو قومی شاہراہ کادرجہ دینے اور اسے سیاحتی نقشے پر لانے کیلئے ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے قیام کے خواب دکھارہی ہے لیکن عملی سطح پر کوئی اقدام نہیں کیاجارہا اور اس روڈ کو مکمل طور پر عدم توجہی کاشکار بنادیاگیاہے ۔